پیر, مارچ 16, 2026
اشتہار

73 انسانوں کی ہلاکت کے گل پلازہ سانحے کی تحقیقات کا پہلا قدم، حکام نے جوڈیشل کمیشن کے سوالات کے جواب میں کیا بتایا؟

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (14 فروری 2026): شہر قائد کے کاروباری مرکز گل پلازہ میں آتشزدگی، مالی و انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بننے والے حالات اور مستقبل میں ان کے سدباب کے لیے تشکیل دیے گئے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس فیصل آغا نے گل پلازہ کی متاثرہ عمارت کا دورہ کیا۔

سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے طور پر جسٹس فیصل آغا کی تقرری کا نوٹیفکیشن 10 فروری کو جاری کیا تھا، کمیشن نے 11 فروری کو سیکریٹری قانون، سیکریٹری ہوم اور کمشنر کراچی کو طلب کر کے آئندہ کی کارروائی کے لیے لائحہ عمل تیار کیا، متاثرہ عمارت کا جائزہ لینے کے خود گل پلازہ پہنچے، اور عمارت کے داخلی اور بیرونی حصوں کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر کمیشن نے صورت حال کے بارے میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو اداروں کے حکام سے بریفنگ لی۔ جوڈیشل کمیشن نے پیر کو سانحہ میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کے لواحقین اور متاثرین سے ڈی سی آفس میں ملاقات کا اہتمام کیا ہے، 16 فروری کو متعلقہ دس اہم سرکاری محکموں کے افسران پیش ہوں گے اور کارکردگی کی رپورٹس پیش کریں گے۔

سوال یہ ہے کہ تحقیقاتی کمیشن اور ٹریبونلز پہلے بھی بنتے رہے ہیں، کیا اس کمیشن کی تحقیقات اور سفارشات مستقبل میں معاشرے کو سانحات سے محفوظ کر سکیں گی؟ کیا حکومت کمیشن کی سفارشات پر قرار واقعی عمل درآمد کرے گی؟ کیا کراچی کے شہریوں کو جان و مال کے تحفظ کا احساس دلایا جاسکے گا؟

جوڈیشل کمیشن کے سوالات


جوڈیشل کمیشن نے دورے کے دوران اپنے مشاہدات تحریری طور پر ریکارڈ کیے ہیں، حکام نے کمیشن کو سب سے پہلے عمارت کے فرنٹ سائیڈ اور اندرونی حصوں کا معائنہ کروایا، موبائل ٹارچ جلا کر حکام نے عمارت کے گراؤنڈ فلور کے اندرونی حصوں کا دورہ کرایا گیا۔


جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے ڈپٹی کمشنر جنوبی، ریسکیو، کے ایم سی اور پولیس حکام سے سوالات کیے، جسٹس آغا فیصل نے کہا جس دکان سے آگ کی شروعات ہوئی وہاں کی نشان دہی کی جائے، اور جس مقام سے بڑی تعداد میں باقیات ملی تھیں وہ کہاں ہے؟ حکام نے بتایا کہ عمارت مخدوش ہوچکی ہے، سیڑیاں گرچکی ہیں، اوپر کی منزلوں تک رسائی ممکن نہیں۔


جسٹس آغا فیصل نے سوال کیا کہ چھت پر جانے کا کوئی راستہ ہے؟ حکام نے بتایا کہ عمارت میں اب اوپر جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، کمیشن نے سوال کیا کہ گل پلازہ میں موجود افراد کو کس راستے سے باہر نکالا گیا؟ جب آگ لگی اس وقت پلازہ کے کتنے دروازے کھلے تھے؟ حکام کا جواب تھا کہ جب آگ لگی تو اس وقت دو سے تین گیٹ کھلے تھے، جب کہ گل پلازہ کے کل 16 دروازے تھے۔

جسٹس آغا فیصل نے دریافت کیا کہ گل پلازہ میں موجود ملبہ کس چیز کا ہے؟ کیا یہ ملبہ توڑ پھوڑ کا نتیجہ ہے؟ حکام نے کہا ملبہ آتشزدگی کے نتیجے میں گرا، ہم نے کسی چیز کو نہیں چھیڑا۔

+ posts

اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں

اہم ترین

اصغر عمر
اصغر عمر
اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں

مزید خبریں