کراچی (20 جنوری 2026): سانحہ گل پلازہ پر کراچی کی فضا آج بھی سوگوار ہے، عمارت میں سے ملنے والی 27 لاشوں میں 20 کی شناخت ہو گئی ہے جب کہ اب تک 83 لاپتا رپورٹ ہوئے ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے ملبے سے انسانی اعضا بھی ملے ہیں، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے مطابق بیس لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے، اور ناقابل شناخت لاشیں ایدھی سرد خانے منتقل کر دی گئیں۔
لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کلیکشن شروع ہو گیا ہے، 18 افراد کے ورثا نے ڈی این اے سیمپل جمع کرا دیے۔ گل پلازہ کے ملبے پر درجنوں شہری اشکبار ہیں، اور اپنے پیاروں کے لیے اب بھی کسی معجزے کے انتظار میں ہیں۔
گل پلازہ والی دونوں سڑکیں ٹریفک کے لیے بند، شہریوں کے لیے متبادل روٹس کون سے ہیں؟
جائے حادثہ پر اپنے پیاروں کے لیے تڑپتے لوگ کرین کے آگے بھی آئے، اور ملبہ اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی، ان کا کہنا تھا کہ پہلے لاشیں نکالیں، ریسکیو ٹیمیں عقبی راستے سے گل پلازہ میں اندر داخل ہوئیں، اور ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹا کر راستہ بنایا جا رہا ہے۔
گل پلازہ کے برابر والی عمارت کے دو پلر بھی ٹوٹ گئے ہیں، اور عمارت کا ایک حصہ گرنے کا خطرہ ہے، پلازہ کی چھت پر پارکنگ سے گاڑیاں اتارنے کا سلسلہ جاری ہے، کرین کی مدد سے 17 گاڑیاں، 12 موٹر سائیکلیں اور ایک رکشہ اتار لیا گیا ہے، گل پلازہ کی چھت پر رکھے چاروں جنریٹرز بھی کرین کی مدد سے اتار لیے گئے ہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے رات گئے گل پلازہ کا دورہ کیا، اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تمام لاپتہ افراد کے ملنے تک ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوگا، ادارے ریسکیو آپریشن کے لیے موجود ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


