کراچی (19 جنوری 2026): چیف فائر آفیسر محمد ہمایوں خان نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 34 گھنٹے بعد قابو پا لیا گیا ہے، اور کولنگ کا عمل جاری ہے۔ تاہم چونتیس گھنٹے کی آتشزدگی نے کئی المناک داستانوں کو جنم دیا ہے، اور چودہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جب کہ 59 افراد کا کچھ پتا نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا جل گئے۔
آج پیر کو صبح آٹھ بجے تک کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع اہم ترین تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا، پلازے کی عقبی سائیڈ پر گراؤنڈ فلور میں آگ لگی ہوئی تھی اور سیکنڈ فلور پر بھی آگ کے شعلے دکھائی دے رہے تھے۔
عقبی سائیڈ پر فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیوں نے کام بھی بند کر دیا تھا، فائر بریگیڈ حکام نے کہا تھا کہ عمارت گرنے کا خدشہ ہے اسی لیے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے۔ کھنڈر بنے گل پلازہ میں کولنگ کا عمل اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے، امدادی کارروائیوں اور ملبہ ہٹانے کے لیے پاک فوج اور ایف ڈبلیو او کی بھاری مشینری اور دستے بھی شامل ہیں، چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ عمارت مخدوش ہے زیادہ دیر اندر رہنا خطرناک ہے۔
تاہم، کراچی کے چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے اس موقع پر نہایت کمزور اور متنازع بیانات بھی دیے ہیں جیسے کہ انھوں نے کہا کہ آگ لگنے کے مقام پر لوگوں کا جم غفیر موجود تھا، اور ہجوم کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا یہ کہنا کہ فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچا محض لفظی باتیں ہو سکتی ہیں، میئر کراچی آن بورڈ تھے اور انھیں لمحہ بہ لمحہ تفصیلات فراہم کی جا رہی تھیں، پانی کی شارٹیج اور دیگر ضروری وسائل بھی ہمیں مسلسل فراہم کیے جا رہے تھے، اور پہلے ہی دن آگ بجھانے کے لیے فوم کا استعمال کیا گیا۔
تاہم، جب چیف فائر آفیسر یہ کہہ رہے تھے کہ آگ کو فوری طور پر تیسرے درجے کا ڈیکلیئر کر دیا گیا تھا، تو انھیں یہ یاد نہیں رہا تھا کہ فوم کا استعمال فوری طور پر نہیں بلکہ تقریباً 18, 19 گھنٹے بعد کیا گیا۔ جب کہ ان کے بہ قول گل پلازہ میں آگ لگنے کی اطلاع 10 بجکر 26 منٹ پر ملی تھی اور فائر بریگیڈ نے فوری رسپانس دیا، اور اس وقت بھی آگ کی شدت بہت زیادہ تھی۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ گل پلازہ کی بیسمنٹ تاحال محفوظ ہے، گزشتہ روز بھی میں خود بیسمنٹ میں نیچے اترا تھا، تاہم پلازہ کے اوپر کے دونوں فلور میں مکمل آگ لگی ہوئی تھی، اور گلی کی بیک سائیڈ اور فرنٹ کی دکانیں جل رہی تھیں۔
واضح رہے کہ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے بیان کے مطابق اب تک گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، آپریشن کے دوران لاشیں نکالنے کا عمل تاحال جاری ہے، اور ناقابل شناخت لاشوں کو ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


