کراچی (18 جنوری 2026): تیسرے درجے کی آگ کی شکار عمارت گل پلازہ میں کئی دکان داروں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں، مارکیٹ میں کام کرنے والے لاپتا عارف نے آخری کال میں کہا ’’میرا دم گھٹ رہا ہے‘‘۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع تجارتی مرکز گل پلازہ میں کام کرنے والے ایک دکان دار عارف بھی لاپتا ہے، جس کے بارے میں رشتہ داروں نے بتایا ہے کہ وہ دو بچوں کا باپ ہے، اور آگ لگنے کے بعد سے لا پتا ہے۔
عارف کی تلاش میں ان کے چچا اور کزن عمارت کے باہر موجود ہیں، چچا کے مطابق عارف نے رات کے ساڑھے دس بجے کے بعد آخری کال پر ان سے کہا تھا کہ مجھے بچاؤ، میرا دم گھٹ رہا ہے۔ انھوں نے بتایا ’’اس کے بعد اس کے ہاتھ سے موبائل گر گیا تھا اور کوئی رابطہ نہیں ہو پایا۔‘‘
کزن نے بتایا ’’میری پھوپھی کا بیٹا عارف فرسٹ فلور پر کام کر رہا تھا، رات کو اس کی کال آئی کہ میں آگ سے لڑ رہا ہوں، اس کے بعد اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، اور پھر فجر کے وقت اس کا موبائل بھی بند ہو گیا۔‘‘
گل پلازہ میں پیٹرول اور ڈیزل والے 3 ہیوی جنریٹرز موجود، خطرناک قرار
واضح رہے کہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگی آگ 13 گھنٹے بعد بھی بجھائی نہ جا سکی۔ بھگدڑ اور دم گھٹنے سے 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے، جو کچھ دیر پہلے امدادی کارروائیوں کے دوران عمارت کا ایک حصہ گرنے سے ملبے میں دب گیا تھا۔
آگ سے متاثرہ 20 افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں جب کہ 11 کی حالت تشویش ناک ہے۔ عمارت میں اب بھی کئی افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ فائر بریگیڈ نے آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا ہے۔ 20 فائر ٹینڈرز، ایک باؤزر اور 2 اسنارکلز بے قابو شعلوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گل پلازہ کا گراؤنڈ فلور مکمل طور پر جل گیا ہے، عمارت کے تین عقبی حصے بھی گر گئے ہیں۔ گل پلازہ میں تقریباً 12 سو دکانیں ہیں۔ عمارت کی چھت پر گاڑیاں اور جنریٹرز بھی موجود ہیں۔
علی حسن اے آروائی نیوز سے اسپورٹس رپورٹر کی حیثیت سے وابستہ ہیں اور کھیلوں کے معاملات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں




