کراچی (18 جنوری 2026): ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگی تیسرے درجے کی آگ بجھانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی سے مدد مانگ لی۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا فائر فائٹنگ اسٹاف اس وقت گل پلازہ میں لگی آگ بجھانے میں مصروف ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ شہر میں آگ کے کسی سانحے میں پی اے اے کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان افسوس ناک ہے، ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر فائر فائٹنگ ٹینڈر روانہ کیا گیا، اور پی اے اے فائر فائٹنگ عملہ آگ بجھانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
صدر الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ میں قیمتی جانیں ضائع، اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، حکومت کو دیکھنا پڑے گا کیا وجہ تھی جو آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ انھوں نے کہا صدر، وزیر اعظم، گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ واقعہ پر فوری ایکشن لیں، تاجروں کی داد رسی اور جو نقصان ہوا ہے اس کا مداوا کیا جائے۔
عمارت میں 7 دروازوں میں سے 2 کھلے تھے باقی بند تھے، ترجمان سندھ حکومت
واضح رہے کہ گل پلازہ میں لگی خوف ناک آگ 16 گھنٹے بعد بھی بے قابو ہے، جس میں ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق، اور 20 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ 11 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے، اس کے علاوہ پلازے میں کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں۔
آگ کی وجہ سے گل پلازہ کا گراؤنڈ فلور پوری طرح جل چکا ہے، آگ پلازہ کی تیسری منزل تک بھی پہنچ چکی ہے، جس سے عمارت کے کچھ حصے زمیں بوس ہو گئے ہیں، اور پوری عمارت مخدوش ہو گئی ہے۔
20 فائر ٹینڈر، باؤزر، اسنار کلز تیسرے درجے کی آگ بجھانے میں مصروف ہیں، گل پلازہ میں سیکڑوں دکانیں ہیں، چھت پر گاڑیاں اور جنریٹرز بھی موجود ہیں، جن میں ایک جنریٹر عمارت کا حصہ منہدم ہونے سے نیچے گر چکا ہے۔
علی حسن اے آروائی نیوز سے اسپورٹس رپورٹر کی حیثیت سے وابستہ ہیں اور کھیلوں کے معاملات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں


