پیر, فروری 9, 2026
اشتہار

سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ سندھ حکومت کو پیش

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (23 جنوری 2026): سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کر دی گئی جس میں کیا گیا ہے کہ شاپنگ سینٹر کی زمین کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کی ملکیت تھی۔

سندھ حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی زمین 1883 میں ٹرام سروس کیلیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی، زمین فاروق ستار کی میئرشپ کے دوران جنیکا کمپنی کو لیز پر دی گئی جبکہ لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل زمین جنیکا نامی گروپ نے خریدی۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ میں آگ اتنی تیزی سے کیسے پھیلی؟ تحقیقات میں اہم انکشاف

رپورٹ کے مطابق زمین کی لیز ختم ہونے کے باوجود عمارت بنانا شروع کی گئی، کے ایم سی کی زمین گل پلازہ کیلیے فاروق ستار نے 3 نومبر 1991 میں دی، لیز پر دینے پر ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کے دستخط ہیں، کے ایم سی کی زمین گل پلازہ کیلیے 3 روپے فی گز کرائے پر لیز کی گئی تھی۔

اس میں کہا گیا کہ گل پلازہ کی تعمیرات کے ایم سی کی جانب سے بغیر لیز 1883 سے 1990 تک جاری رہیں، جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی نے تعمیرات روکنے کیلیے کچھ نہ کیا، ایم کیو ایم کے میئر فاروق ستار نے 1991 میں زمین کی لیز کی دستخط موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2003 میں اضافی فلور کو ریگولرائز کیا گیا اُس وقت جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان میئر تھے۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں