کراچی (24 جنوری 2026): سانحہ گل پلازہ کے آٹھویں روز بھی سرچ آپریشن جاری ہے، اب تک تباہ شدہ عمارت میں تلاش کا عمل تقریباً 90 فی صد تلاش مکمل کر لیا گیا ہے۔
اس آپریشن میں اربن سرچ اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں شریک ہیں، سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 71 ہو گئی ہے، اور 15 سے زائد کی شناخت ہو سکی ہے، جب کہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ واقعہ میں 77 افراد لاپتا ہوئے تھے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے سندھ اسمبلی میں خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ گل پلازہ پہلا سانحہ نہیں، ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں، سانحہ پر سیاست کرنا جرم ہے، سانحہ کی انکوائری کی روشنی میں ایف آئی آر درج ہوگی، جو ذمہ دار ہوگا اسے سزا ملے گی، دکان داروں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دیں گے، ایک کروڑ تک کا بلاسود قرض دیا جائے گا، اور گل پلازہ پھر بنا کر دیں گے، کوئی اضافی دکان نہیں بنے گی۔
چوروں نے سانحہ گل پلازہ میں لاپتہ آصف کے گھر کا بھی صفایا کردیا
گزشتہ رات گل پلازہ کے بیسمنٹ میں قائم دکان سے نقد رقم برآمد ہوئی، ریسکیو حکام کے مطابق ٹیم کو سرچنگ کے دوران ایک لاکھ روپے سے زائد نقد رقم ملی، پلازہ سے برآمد کی گئی رقم مالک کے حوالے کر دی گئی۔
دوسری طرف سانحے کے بعد ایک اور سانحہ یہ ہوا ہے کہ پلازہ میں لاپتا آصف کے گھر چوری کی واردات ہو گئی ہے، لواحقین نے ویڈیو بیان میں کہا ’’ہم کبھی ڈی سی آفس اور کبھی سرد خانے کے چکر لگانے میں مصروف تھے۔ ہم آصف کی تلاش میں مصروف تھے اور پیچھے گھر میں چوری ہو گئی۔ چور گھر میں رکھے طلائی زیورات لے کر فرار ہو گئے۔ تین دن گزر گئے اطلاع کے باوجود گارڈن پولیس نے کارروائی نہیں کی۔‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


