کراچی (22 جنوری 2026): ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نے سانحہ گل پلازہ میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے آگ لگنے کی ٹائم لائن تیار کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق گل پلازہ کی اطراف میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے حکام نے آگ کی ایک ٹائم لائن تیار کی ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ پلازہ کے عقبی حصے میں 10 بجکر 7 منٹ پر آگ لگی۔
10 بجکر 8 منٹ پر گل پلازہ میں دھواں نظر آنا شروع ہوا، 10 بجکر 12 منٹ پر آگ کے شعلے نظر آئے اور ایمبولینسیں پہنچنا شروع ہو گئیں، جب کہ پلازہ کے ایم اے جناح روڈ والی سائیڈ پر 10 بجکر 18 منٹ پر آگ نظر آئی، اور پھر چند ہی لمحوں میں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی نظر آنا شروع ہو گئی تھیں۔
فوٹیج ٹائم لائن سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ کو پچھلے حصے سے اگلے حصے میں پہنچنے میں 11 منٹ لگے۔
سی سی ٹی وی کیمرے خراب
دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈی سی آفس کے ساتھ لگے سی سی ٹی وی کیمرے خراب تھے، ذرائع کا کہنا ہے کہ کیمرے حادثے کے دن لوڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ پہلے سے خراب تھے۔
’گل پلازہ سے لاشوں کے بجائے باقیات مل رہی ہیں جن کی حالت انتہائی خراب ہے‘
جب کہ گل پلازہ میں آگ لگنے سے چند روز قبل نیا سی سی ٹی وی مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا گیا تھا، ویڈیو میں گل پلازہ میں لگے درجنوں کیمروں کی مانیٹرنگ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کیمروں کے ساتھ ڈی وی آر بھی نصب تھا۔ نئے سی سی ٹی وی کیمرے تمام فلورز پر موجود تھے اور میئر کی ہدایت کے بعد کیمروں کی مرمت کے لیے مینٹیننس ٹیم پہنچی تھی۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ
دوسری طرف ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ گل پلازہ میں 16 دروازے تھے، اور حادثے کے وقت بیش تر بند تھے، صرف 2 دروازے کھلے تھے، لوگوں نے رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی، آتشزدگی کے دوران پھنسے افراد نے ایک دروازہ توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کی۔
کسی بھی تخریب کاری کے پیش نظر بم ڈسپوزل اسکواڈ نے 2 مختلف مقامات سے نمونے جمع کیے ہیں، 3 نمونے مصنوعی پھولوں کی دکان، 3 دیگر مقامات سے جمع کیے گئے، لاشوں کا کیمیائی تجزیہ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


