کراچی (18 جنوری 2026): تیسرے درجے کی آگ کی شکار عمارت گل پلازہ میں دو الگ الگ شادیوں کی شاپنگ کے لیے آنے والے دو خاندانوں کے 12 افراد بھی لاپتا ہو گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ایم اے جناح روڈ پر آتشزدگی کی شکار عمارت کے باہر موجود ورثا کا کہنا ہے کہ کرن نامی لڑکی کی شادی کے لیے اس کی والدہ کوثر اور دیگر گھر والے خریداری کرنے گل پلازہ گئے تھے، لیکن پھر گزشتہ رات سے ان سے رابطہ مقطع ہو گیا۔
لاپتا خواتین کو ڈھونڈنے آئے ماموں اور مامی نے بتایا کہ ان کی فیملی قریب میں رہتی ہے، خاتون کے مطابق گل پلازہ آگ میں ان کے 6 رشتہ دار لاپتا ہیں جن میں دلہن کرن کی ماں کوثر، ان کا اکلوتا بیٹا سعد، بھائی اشرف اور لڑکی مصباح بھی شامل ہیں۔
گل پلازہ میں کام کرنے والے لاپتا عارف نے آخری کال میں کہا ’’میرا دم گھٹ رہا ہے‘‘
ورثا نے لاپتا خواتین کو اسپتالوں میں بھی تلاش کر لیا لیکن وہ کہیں نہیں ملے، نہ ہی جاں بحق افراد کی فہرست میں ان کے نام ہیں۔
شادی کی خریداری کے لیے گل پلازہ جانے والے ایک اور خاندان کے 6 افراد بھی لاپتا ہیں، جن میں 45 سالہ تنویر احمد، 42 سال کے عمر نبیل، 33 سال کی عائشہ سمیع، 18 سالہ عبداللہ، 15 سالہ سفیان اور 11 سالہ علی بن عمر شامل ہیں۔
گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد متعدد شہریوں کو اپنے پیاروں کی تلاش ہے، ایک شہری نے بتایا کہ اس کے بھائی سے آخری بار بات ہوئی تو اس نے کہا آگ لگی ہوئی ہے، مجھے بچالو، میں مر جاؤں گا۔ گل پلازہ میں کام کرنے والا دکان دار عارف بھی لاپتا ہے، جس کے چچا نے بتایا عارف نے آخری کال پر کہا تھا میں آگ سے لڑ رہا ہوں مجھے بچاؤ۔
علی حسن اے آروائی نیوز سے اسپورٹس رپورٹر کی حیثیت سے وابستہ ہیں اور کھیلوں کے معاملات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں


