ہفتہ, فروری 7, 2026
اشتہار

گل پلازہ سانحہ، بچنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟ دکاندار کا تہلکہ خیز انکشاف

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی: شہر قائد کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف تجارتی مرکز گل پلازہ جو کبھی شہریوں کے لئے خریداری کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا، اب راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے، خوفناک آگ کی زد میں آنے والے بہت سے معصوم شہری ابھی تک تاحال لاپتہ ہیں، ان کے پیارے جلی ہوئی عمارت کے باہر بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

اے آر وائی کے مارننگ شو ”گڈ مارننگ پاکستان“ کی میزبان ندا یاسر کو گل پلازہ کی خوفناک آگ سے بچ جانے والے دکانداروں نے آنکھوں دیکھا حال بتایا۔

ایک دکاندار نے بتایا کہ میں اُس وقت کلوسنگ کررہا تھا کہ میرا ایک ساتھی جو باہر تھا اس نے اندر آکر بتایا کہ بھائی باہر آگ لگی ہوئی ہے، میں سمجھا کہ چھوٹی سی آگ لگی ہوگی، مگر جب میں باہر نکلا اور دیکھا تو آگ اتنی زیادہ شدید تھی کہ وہ آگ بڑھتی چلی جارہا تھی، مجھے اتنا موقع بھی نہیں ملا کہ اپنی قیمتی فائلیں اُٹھا لیتا۔

دکاندار نے بتایا کہ ہم سمجھتے تھے کہ گل پلازہ ہمارے لئے بہت محفوظ ہے، مگر ایسا نہ تھا، اتنا موقع بھی نہیں ملا کہ کیش اور فائلیں اُٹھا لیتا، میرے ورکرز نے اور میں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا تو ہم سب نکلنے میں کامیاب ہوگئے، گیٹ نمبر 7 اور گیٹ نمبر 8 میں بھی آگ لگ چکی تھی تو ہم نے گیٹ نمبر 9 سے نکلنے کا فیصلہ کیا اور شکر الحمداللہ ہماری جان بچ گئی۔

ایک اور دکاندار نے بتایا کہ میں کسی دکان سے پیمنٹ لینے گیا ہوا تھا کہ اچانک سیڑھیوں سے دھواں اندر آنے لگا اور وہ دھواں اتنی تیزی سے پھیلا کہ ہم سب کھڑکی کی طرف بھاگے، اسی دوران لائٹ بھی چلی گئی، پھر ہم لوگ آگے کی طرف گئے، اس وقت وہاں بہت سی خواتین اور بچے بھی موجود تھے جو چلا رہے تھے، مگر دھواں اتنا زیادہ تھا کہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔

اللہ کے فضل و کرم سے مجھے سیڑھیاں نظر آئیں تو میں نیچے بھاگا اور سانس لیا زندہ بچنے میں کامیاب ہوگیا، تھوڑی دیر اور ہوتی تو میرا بچنا بہت مشکل تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں