پیر, فروری 9, 2026
اشتہار

گُل پلازہ: اس المناک حادثے سے پیوستہ المیہ کیا ہے؟

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی میں ایک بار پھر بڑا سانحہ رونما ہو گیا۔ گُل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی نے درجنوں گھروں کے چشم و چراغ گل کر دیے۔ اُس روز صرف گل پلازہ نہیں جلا، بلکہ اس کے ساتھ دلہن کی نئی زندگی کے خواب، والدین کے ارمان، بچوں کا مستقبل بھی جل گیا۔ درجنوں زندہ افراد کو جلا دینے والے اس المناک سانحے میں اگر کچھ بجھے تو وہ صرف ہزاروں گھروں کے چولھے ہی بجھے۔

ہفتے کی شب جب کراچی میں ویک اینڈ کی سرگرمیاں زور وشور سے جاری تھیں۔ لوگ تفریح اور خریداری کے لیے گھروں سے پُر مسرت چہروں کے ساتھ نکلے ہوئے تھے، تو کسی بھی یہ معلوم نہ تھا کہ آج کی شب کا آنچل ایک اور المناک داستان سے خون آلود ہونے والا ہے۔

کراچی کے مصروف ترین علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں جب آگ لگی تو اس معروف تجارتی مرکزی میں ہزاروں افراد خریداری میں مصروف تھے۔ یہاں ہر کوئی اپنے خواب خریدنے آیا تھا، مگر ملی تو صرف موت اور زندگی بھر کا درد۔ پلازہ میں اچانک آگ بھڑکی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایسے پھیلی کہ بھاؤ تاؤ کرتی آوازیں، کھلونے دیکھ کر خوش ہونے والے بچوں کے قہقہے، چیخوں اور کبھی نہ بھول پانے والی المناک صداؤں میں تبدیل ہو گئیں۔ آگ کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چھٹے روز بھی ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے اور اب تک 63 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں اکثر لاشیں جل کر کوئلہ اور ناقابل شناخت ہیں۔ 50 سے زائد اب بھی لاپتہ ہیں اور حکام اموات کی تعداد بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں۔

امدادی سرگرمیوں کا حال یہ رہا کہ تین منزلہ عمارت شعلوں میں گھری اور اندر ہزاروں افراد محصور۔ علاقہ انسانی چیخوں سے گونج رہا تھا۔ تو عینی شاہدین کے مطابق اس واقعہ پچاس منٹ بعد گھنٹیاں بجیں اور کچھ فائر ٹینڈرز آئے لیکن صرف تھوڑا سا چھڑکاؤ کر کے پانی ختم ہونے پر واپس چلے گئے۔ یہ ہے ملک کے سب سے بڑے اور معاشی حب کہلانے والے شہر کراچی کا المیہ۔

اس سانحے نے صرف معصوم زندگیوں کو ہی نہیں نگلا بلکہ کروڑ پتی افراد بھی راتوں رات زمین پر آ گئے۔ تاجر رہنماؤں کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ خاندانوں کا روزگار گل پلازہ سے وابستہ تھا۔ جن کے چولھے اب نہ جانے کب تک بجھے رہیں۔ لیکن شہر قائد میں ہولناک آتشزدگی پہلا المیہ نہیں بلکہ ایسے اور اس سے بھی سنگین المیے اس شہرِ نا پُرساں پر گزر چکے ہیں۔

چاہے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی کا واقعہ ہو، جس میں 280 سے زائد افراد زندہ جلے یا پھر جیل روڈ پر واقع معروف ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں آگ لگنے کا واقعہ۔ آر جے شاپنگ مال ہو یا ملینیم مال کا شعلوں میں گِھرنا۔ گزشتہ 18 سالوں میں درجنوں آتشزدگی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں اور ہر واقعہ کے بعد کراچی والے سندھ حکومت اور سیاستدانوں کے انسانی ہمدردی کی آڑ میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر مبنی بیانات اور ایک دوسرے پر الزامات سنتے آ رہے ہیں۔ انکوائری کمیٹیاں بھی قائم ہوئیں اور مقدمات بھی بنے۔ مگر آج تک کسی بھی واقعے کے متاثرین کو مکمل انصاف مل سکا اور نہ ہی ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی انتظامات کیے گئے۔

جب کراچی جل رہا تھا تو سندھ کے حاکم وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور میئر مرتضیٰ وہاب شہر اقتدار اسلام آباد میں موجود تھے، جو کراچی سے صرف دو گھنٹے کی فضائی مسافت پر ہے، لیکن انہیں پہنچنے میں 23 گھنٹے لگے اور جب آئے تو متاثرہ پلازہ کے دورے کے بعد اداروں کی پھرتیاں گنوانا شروع کر دیں۔ لیکن اگر ادارے بروقت اور موثر ریسکیو کرتے تو شاید اتنی تباہی نہ ہوتی۔

آتشزدگی کے واقعات میں جہاں شاپنگ مالز اور کثیر المنزلہ عمارتوں کے مالکان، رہائشی اور دکاندار بھی کسی حد تک ذمہ دار ہیں، مگر ان واقعات میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کی اصل وجہ تین کروڑ آبادی والے شہر میں آگ لگنے کے واقعات سے نمٹنے کی سہولتوں کا فقدان بھی ہے۔

خود چیف فائر آفیسر محمد ہمایوں بتا چکے کہ چیف فائر آفیسر کے مطابق کراچی میں آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے 45 فائر ٹینڈرز، 8 اسپرنکلرز، دو باوزر، دو ریسکیو یونٹس اور ایک فوم یونٹ کے علاوہ شہر میں مجموعی طور پر صرف 28 فائر اسٹیشنز ہیں۔ طے شدہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی میں ایک فائر اسٹیشن ہونا چاہئیں۔ اس طرح تین کروڑ آبادی کی مناسبت سے کراچی میں کم از کم 3 ہزار فائر اسٹیشن ہونا چاہئیں۔ سندھ کے دارالخلافہ اور ملک کو 65 فیصد ریونیو دینے والے شہر میں آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے یہ انتظامات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ حکمران کراچی کے شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔ اس وقت بھی سندھ حکومت ہو یا کراچی کی شہری حکومت یا ادارے، ان سب کا زیادہ زور اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے اس کی ذمہ داری خود متاثرین یعنی کہ تاجروں پر ڈالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس ساری صورتحال میں حکومت کا ایک یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ گل پلازہ میں نقشے کے بر خلاف خارجی راستوں اور پارکنگ میں غیر قانونی دکانیں تعمیر کی گئیں۔ تو جناب جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو حکومت کہاں سو رہی تھی۔ ایس بی سی اے سمیت تمام ادارے تو 18 سال سے سندھ کی حکمراں جماعت کے پاس ہی ہیں۔ حکومت اس واقعہ کو قدرتی آفت کہہ کر اور ذمہ داری کسی اور پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ حال تو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ خود کسی معجزے کے منتظر رہے۔ اگر یہ بات کئی روز سے اپنے پیاروں کے لیے باہر ٹھٹھرتی سردی میں بیٹھے متاثرین کہتے تو سمجھ آتی۔ لیکن صوبے کے عوام کے جان ومال کے تحفظ کے ضامن شخص کا یہ موقف کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے شاید ناقابل قبول ہو۔

گُل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے میں تخریب کاری کا شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ کئی دکاندار بھی یہ کہتے پائے گئے کہ آگ لگی نہیں بلکہ جان بوجھ کر لگائی گئی ہے۔ حکومت نے اس کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اب اس کی کیا اور کب رپورٹ آتی ہے، دیکھنا ہوگا کہ ذمہ دار کون قرار پاتا ہے اور اس کے لیے کیا سزا مقرر کی جاتی ہے۔

اس سانحے کے بعد بھی وہ پرانے سوالات دوبارہ اٹھائے جا رہے ہیں جو ہر واقعہ کے بعد کیے جاتے ہیں کہ عمارت میں فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات کہاں تھے؟ ایمرجنسی راستے کیوں بند تھے؟ فائر الارم، اسنارکلز اور دیگر آگ بجھانے کے آلات کہاں تھے؟ آگ بجھانے کے لیے پانی دستیاب کیوں نہیں؟ ہر آتشزدگی کے بعد حکومت اور حکومتی ادارے دوڑ بھاگ شروع کرتے ہیں۔ قانون بنتے ہیں لیکن جو قانون بناتے ہیں وہی ان کو توڑتے بھی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج بھی اکثر عمارتیں بغیر نقشے کے غیر قانونی تعمیر نہ ہو رہی ہوتیں۔ ان میں سیفٹی انتظامات ہوتے۔ مگر جہاں قانون پر عملدرآمد کرانے والے ہی قانون شکن بنیں تو پھر یہی ہوتا ہے جو ہوتا آیا ہے۔

حکومت سندھ نے اس سانحے میں مرنے والوں کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اپنی جگہ درست لیکن کیا یہ بہتر نہ ہو کہ ہر حادثے پر کروڑوں روپے مرنے والوں کے ورثا کو امداد دینے کے بجائے یہ رقم ایسے سانحات رونما ہونے سے بچانے والی کوششوں پر خرچ کی جائے کیونکہ ایک کروڑ ہوں یا ایک ارب کسی یتیم کے سر پر باپ کا سایہ، بیوہ کا سہاگ اور ماں باپ کی اولاد واپس نہیں لا سکتے۔

آج کراچی والے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا بے گناہ مرنا ہی ان کا مقدر بنا دیا گیا ہے۔ کبھی وہ کھلے گٹروں میں گر کر مرتے ہیں تو کبھی برساتی نالوں میں بہہ کر، کبھی کوئی ’’غیر قانونی عمارت‘‘ ان کے سروں پر گر کر موت کی نیند سلا دیتی ہے تو کبھی ڈاکو انہیں سر عام گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔ جب تک ذمہ داروں کو بے نقاب نہیں کیا جائے گا۔ جواب دہی اور سزا کا نظام قائم نہیں تب تک اس شہر میں موت کا رقص یوں ہی جاری رہے گا۔ آگ لگتی رہے گی، اور زندگیوں کے چراغ بجھتے رہیں گے۔

+ posts

ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

اہم ترین

ریحان خان
ریحان خان
ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں