ہفتہ, فروری 14, 2026
اشتہار

گُل پلازہ میں آگ لگتے ہی اس کی بجلی کس نے بند کروائی؟ بڑا اعتراف سامنے آ گیا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (21 جنوری 2026): گُل پلازہ میں آگ لگتے ہی شاپنگ مال کی بجلی کس نے بند کرائی یہ عقدہ کھل کر اب سامنے آ گیا۔

ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف تجارتی مرکز گُل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کی تباہ کاریاں اب تک سامنے آ رہ ہیں اور کئی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ان ہی میں ایک سوال یہ بھی زور وشور سے کیا جا رہا ہے کہ گل پلازہ میں آگ لگتے ہیں تجارتی مرکز کی بجلی کس نے بند کروائی۔

اس حوالے سے جب اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان نے یہ سوال کیا تو گل پلازہ منیجمنٹ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد انہوں نے کے الیکٹرک فون کر کے عمارت کی بجلی بند کرائی۔

تنویر پاستا نے بتایا کہ جب گل پلازہ میں آگ لگی تو میں اس وقت بیسمنٹ میں اپنے دفتر میں موجود تھا۔ اطلاع ملتے ہی میں اور ہمارے دیگر ممبران آگ بجھانے کے لیے اوپر پہنچے لیکن جب آگ پھیلی اور قابو سے باہر ہوتی دکھائی دی تو میں نے خود کے الیکٹرک فون کر کے آگ لگنے کا بتایا اور بجلی بند کروائی۔

ان کا کہنا ہے کہ خود کے الیکٹرک کی بھی یہ ہدایت ہے کہ اگ لگے تو فوری طور پر وہاں کی بجلی بند کرائی جائے۔ اگر ہم بجلی بند نہ کراتے تو عمارت کی وائرنگ میں آگ لگنے سے وہاں موجود ہزاروں لوگ عمارت سے باہر نہ نکل سکتے۔

تنویر پاستا نے یہ بھی بتایا کہ ہم آگ لگنے کے 10 منٹ بعد بیسمنٹ، میز نائن اور گراؤنڈ فلور سے لوگوں کو نکال چکے تھے۔ 50 سے 60 افراد وہاں رہ گئے تھے۔

تاجر رہنما نے یہ بھی بتایا کہ ہر دکان کا عملہ کم از کم پانچ افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ یوں تقریباً 5 ہزار کے لگ بھگ تو عمارت میں عملہ ہی تھا جب کہ ہزار سے ڈیڑھ ہزار خریدار تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں ایگزٹ نہ ہونے یا دروازے بند کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر 16 دروازے، ایک ایمرجنسی ریمپ اور 6 زینے ہیں۔

سانحہ گل پلازہ سے متعلق تمام خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

تنویر پاستا نے بتایا کہ لوگوں کو ریسکیو کرنے کے دوران خود ان کی ٹیم کے دو ارکان شہید ہوئے جب کہ پانچ نوجوان لاپتہ ہیں۔

واضح رہے کہ گُل پلازہ میں پانچویں روز بھی سرچ آپریشن جاری ہے اور اب تک 30 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ 80 کے قریب اب بھی لاپتہ ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں