کراچی (21 جنوری 2026): سوشل میڈیا پر گُل پلازہ کے دکانداروں سے ماہانہ 5500 روپے مینٹیننس کے نام پر وصول کیے جانے کی حقیقت کیا ہے؟
سانحہ گُل پلازہ کے بعد جہاں اب تک اس کی تباہ کاریاں سامنے آ رہی ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بھی کئی خبریں وائرل ہو رہی ہیں۔
ان ہی وائرل خبروں میں ایک تصویر کے ساتھ یہ خبر بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں بتایا جا رہا ہے کہ گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن دکانداروں سے ماہانہ 5500 روپے فی دکان مینٹیننس کی مد میں وصول کرتے ہیں۔ اس خبر کے ساتھ رسید کی تصویر بھی ہے، جس میں صدر ایسوسی ایشن پاستا کے نام سے دستخط بھی موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس خبر کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ دکانداروں سے مینٹیننس کی مد میں مجموعی طور پر ماہانہ 66 لاکھ وصول کرنے والی ایسوسی ایشن پلازہ میں فائر الارم بھی کیوں نہ لگا سکی۔
گل پلازہ کے صدر تنویر پاستا نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں اس وائرل خبر کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ یہ خبر اور رسید 100 فیصد جھوٹی ہے اور اتنی رقم وصول نہیں کی جا رہی۔
تنویر پاستا نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر وائرل رسید کی تصویر کے نیچے میرے نام کے دستخط ہیں۔ اگر میں کوئی فراڈ کروں گا تو رسید پر دستخط کیوں کروں گا۔ دوسری بڑی غلطی یہ ہے کہ اس رسید پر گُل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن لکھا ہے جب کہ ہماری یونین کا نام ’’گُل پلازہ منیجمنٹ کمیٹی‘‘ ہے۔
سانحہ گل پلازہ سے متعلق تمام خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں
انہوں نے پروگرام میں گل پلازہ منیجمنٹ کمیٹی کی رسید دکھاتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پلازہ کی ہر دکان سے ماہانہ مینٹیننس کی مد میں صرف 1500 روپے وصول کیے جاتے ہیں۔
گُل پلازہ میں آگ لگتے ہی اس کی بجلی کس نے بند کروائی؟ بڑا اعتراف سامنے آ گیا
تاجر رہنما نے کہا کہ سانحے کے بعد میڈیا کے کئی نمائندے بھی یہاں آئے اور انہوں نے دکانداروں سے پوچھا کہ مینٹیننس کی مد میں کتنا لیا جاتا ہے تو انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ماہانہ 1500 روپے ہی لیے جاتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


