کراچی (20 جنوری 2026): سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔
کراچی میں سانحہ گُل پلازہ کے حوالے سے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گُل پلازہ آتشزدگی واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ نے جو کمیٹی بنائی ہے، وہ ایک ایک چیز کو دیکھے گی اور تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی۔ واقعہ کے جو بھی محرکات سامنے آئیں گے، وہ سب کو بتائے جائیں گے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ گل پلازہ میں اس وقت بھی ریسکیو کا عمل چل رہا ہے اور لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔ جو لاشیں شناخت کے قابل نہیں، ان کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ وہ لوگ لاپتہ ہیں، ان کے اہلخانہ کو کہا گیا ہے کہ وہ ڈی این اے کے لیے اپنے سیمپل دیں، تاکہ شناخت ہو سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گُل پلازہ میں کھلونوں اور الیکٹرانک آئٹمز کی دکانیں تھیں۔ ان چیزوں میں بیٹریز ہوتی ہیں۔ آگ کے پھیلنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے۔
سانحہ گل پلازہ سے متعلق تمام خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں
شرجیل میمن نے اس وقت پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایگزٹ نہیں ہے۔ حکومت عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کرتی ہے اور کرے گی۔
گُل پلازہ میں آگ بجھانے پہلا فائر ٹینڈر کب پہنچا؟ سرکار نے معاملہ معمہ بنا دیا
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


