جمعرات, فروری 12, 2026
اشتہار

سانحہ گُل پلازہ پر قومی اسمبلی میں بحث، جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (20 جنوری 2026): سانحہ گُل پلازہ پر ڈاکٹر فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں بحث کیلیے تحریک التوا پیش کی جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں ہونے والے سانحہ گُل پلازہ پر بحث کے لیے تحریک التوا پیش کرتے ہوئے آج ایجنڈے کی کارروائی معطل کر کے واقعہ پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آج کراچی کی پُکار سنیں۔ جس کے بعد ایوان میں آج کے ایجنڈے کی کارروائی کل تک ملتوی کر کے تحریک پر بحث کی گئی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر، جس میں پاکستان کے ہر علاقے کا شہری رہتا ہے۔ یہ شہر قومی خزانے میں 60 سے 65 اور سندھ کے خزانے میں 90 سے 95 فیصد دے رہا ہے۔ گل پلازہ کی آتشزدگی قومی سانحہ ہے۔ یہ قومی المیہ ہے اور اس کو قومی المیہ ڈکلیئر کر کے ریسپانس دینا چاہیے اور چاروں صوبوں میں اس پر بحث ہونی چاہیے۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ آخر کب وفاق اور صوبائی حکومتوں میں کراچی ترجیح حاصل کرے گا۔ اس شہر کے بنیادی مسائل کب اور کون حل کرے گا؟ 14 سال تک پانی کا منصوبہ جاگیرداروں وڈیروں کے ہاتھ میں رہا۔ کراچی کے مسئلے پر صرف بات ہی نہ کی جائے بلکہ انہیں حل بھی کیا جائے۔

ایم کیو ایم رہنما اور وفاقی وزیر امین الحق نے گل پلازہ سانحہ کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔

امین الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم نے 2020 میں وفاق سے بات کر کے 52 فائر ٹینڈرز کراچی کے حوالے کیے۔ اس کے علاوہ دو اسنارکل اور دو باؤزر دیے گئے، لیکن 6 سال گزرنے کے باوجود ایک بھی فائر ٹینڈر کا اضافہ تو دور بلکہ میری معلومات کے مطابق اس وقت صرف 36 فائر ٹینڈرز کام کر رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چند روز قبل اسلام آباد میں ڈھائی گھنٹے کی پریزنٹیشن دی جاتی ہے، جس میں سب اچھا کا نعرہ لگایا جاتا ہے، لیکن گل پلازہ میں آگ لگنے کا جواب کون دے گا؟

پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا کہ گل پلازہ واقعہ انتہائی دردناک ہے، میں اس پر سیاست نہیں کرنا چاہتی اور کسی اور کو بھی اس پر گھٹیا سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

شہلا رضا نے کہا کہ جب گل پلازہ میں آگ لگی تو اطلاع ملتے ہی سینٹر اور صدر فائر اسٹیشن سے گاڑیاں روانہ کی گئیں۔ 10 بج کر 47 منٹ پر بتایا گیا کہ آگ بڑی نوعیت کی ہے تو گل پلازہ آگ بجھانے کے لیے 150 واٹر ٹینکر بھیجے۔ کیا وجہ ہے کہ کیمیکل اور پانی کے بعد بھی آگ بھڑک جاتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے وقت 26 میں سے 24 دروازے بند کیے جا چکے تھے۔ پی پی ایم این اے نے یہ بھی کہا کہ ضروری نہیں کہ جب کوئی حادثہ ہو تو وزیراعلیٰ یا صوبائی وزیر فوری پہنچیں۔

گُل پلازہ آتشزدگی کے بعد رمپا پلازہ پر انتظامیہ نے تالے کیوں ڈال دیے؟

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں