کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب 23 گھنٹے بعد بالآخر گل پلازہ پہنچ گئے، میئر کی آمد پر تاجروں نے شدید احتجاج کیا۔
میئرمرتضیٰ وہاب کی آمد پر تاجروں نے احتجاج کیا اور میئر نامنظور کے نعرے لگائے، مشتعل تاجروں نے ڈی سی آفس کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی جس پر اضافی نفری تعینات کردی گئی، میئرکراچی نے گل پلازہ کے صدر سمیت چند افراد کوڈی سی آفس بلالیا۔
میئرکراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سےمتعلقہ افسران کی سرزنش بھی کی گئی، شہر کے میئر کے عہدے پر فائز مرتضیٰ وہاب تقریبآ 23 گھنٹے بعد پہنچے۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ کل رات 9 بج کر 45 منٹ سے 10 بج کر 15 منٹ کے درمیان پیش آیا جس کے نتیجے میں ایک ہزار 200 سے زائد دکانیں جلیں، فائر بریگیڈ کی کارروائی کے بعد آگ پر 60 سے 70 فیصد قابو پا لیا گیا ہے۔
gul plaza تمام خبریں
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے کافی پہلے وزیراعلیٰ اور گورنر سندھ گل پلازہ پہنچے اور سانحے کی معلومات حاصل کی تھیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا گل پلازہ آتشزدگی میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ میں بھاری مالی نقصان پر بھی افسوس کا اظہار کیا، آگ بجھانے کے دوران شہید فائر فائٹر کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔
دریں اثنا ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد ایم اے جناح روڈ تبت سینٹر سے گارڈن چوک تک بند کردی گئی ہے، شہری ایم اے جناح روڈ جانے کیلئے متبادل راستہ اختیار کریں۔
گل پلازہ سانحہ: عمارت کے گرنے کے مناظر، لوگ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے رہے
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


