میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو گل پلازہ آمد پر مشتعل ہجوم نے گھیر لیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس اہلکار میئر کراچی کو ڈی سی آفس لے گئے تو لوگوں نے ڈی سی آفس میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی اور دروازے پر لاتیں بھی ماریں۔
اس دوران مشتعل افراد اور سیکیورٹی اہلکاروں میں دھکم پیل بھی ہوئی۔
میئر کراچی نے کہا کہ مشکل گھڑی میں تاجروں کے ساتھ کھڑے ہیں جب تک کام مکمل نہیں ہوگا یہاں آتا رہوں گا۔
واضح رہے کہ چیف فائر آفیسر محمد ہمایوں خان نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 34 گھنٹے بعد قابو پا لیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے۔ اب تک درجنوں افراد جھلس کر جاں بحق ہو چکے ہیں اور کئی لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
فائر بریگیڈ حکام نے کہا تھا کہ عمارت گرنے کا خدشہ ہے اسی لیے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے، کھنڈر بنے گل پلازہ میں کولنگ کا عمل اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے، امدادی کارروائیوں اور ملبہ ہٹانے کیلیے پاک فوج اور ایف ڈبلیو او کی بھاری مشینری اور دستے بھی شامل ہیں۔
چیف فائر آفیسر کا کہنا تھا کہ عمارت مخدوش ہے زیادہ دیر اندر رہنا خطرناک ہے۔
گل پلازہ کی تمام خبریں پڑھنے کے لیے کلک کریں
تاہم، کراچی کے چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے اس موقع پر نہایت کمزور اور متنازع بیانات بھی دیے ہیں جیسے کہ انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کے مقام پر لوگوں کا جم غفیر موجود تھا اور ہجوم کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچا محض لفظی باتیں ہو سکتی ہیں، میئر کراچی آن بورڈ تھے اور انہیں لمحہ بہ لمحہ تفصیلات فراہم کی جا رہی تھیں، پانی کی شارٹیج اور دیگر ضروری وسائل بھی ہمیں مسلسل فراہم کیے جا رہے تھے اور پہلے ہی دن آگ بجھانے کے لیے فوم کا استعمال کیا گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے بیان کے مطابق اب تک گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، آپریشن کے دوران لاشیں نکالنے کا عمل تاحال جاری ہے، اور ناقابل شناخت لاشوں کو ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔


