جمعہ, فروری 6, 2026
اشتہار

پلازہ میں آگ کیسے پھیلی ؟ صدر گل پلازہ نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : گل پلازہ کے صدر تنویر قاسم پاستا نے پلازہ میں لگنے والی آگ کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا آگ پھولوں کی دکان میں لگی اور اے سی پائپنگ سے پھیلی۔

تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کے صدر تنویر قاسم پاستا نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں آتشزدگی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آگ رات 10 بج کر 10 منٹ پر ایک دکان میں لگی، اطلاع ملتے ہی انتظامیہ فوری طور پر اوپر پہنچی اور ابتدائی طور پر 15 سے 20 منٹ تک فائر سلنڈرز کے ذریعے آگ بجھانے کی کوشش کی گئی۔

صدر گل پلازہ کا کہنا تھا کہ وقتی طور پر آگ پر قابو پا لیا گیا تھا، تاہم کچھ دیر بعد دوبارہ شعلے بھڑک اٹھے، جس کے بعد اے سی کی پائپنگ کے ذریعے آگ تیزی سے پھیل گئی اور ایم اے جناح روڈ کی جانب واقع گیٹ نمبر تین تک جا پہنچی۔

ان کا کہنا تھا کہ آگ کی اطلاع فوری طور پر فائر بریگیڈ کو دی گئی اور اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی بھرپور کوشش جاری رکھی گئی۔

تنویر قاسم پاستا نے بتایا کہ تقریباً 55 منٹ بعد فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی موقع پر پہنچی، تاہم 20 منٹ میں ہی اس میں موجود پانی ختم ہو گیا ، جس کے بعد 25 سے 30 منٹ بعد فائر بریگیڈ کی مزید دو گاڑیاں موقع پر پہنچیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر 55 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع ملی تھی، جن میں 42 دکاندار شامل تھے۔ گل پلازہ میں اربوں روپے مالیت کا سامان موجود تھا اور پلازہ میں مجموعی طور پر 1200 دکانیں قائم تھیں۔ صدر گل پلازہ کے مطابق رات سے ریسکیو کا مکمل عمل جاری ہے۔

صدر گل پلازہ کا کہنا تھا کہ میئر کراچی سے رابطہ ہوا، جس کے بعد تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے آج ملاقات طے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ متاثرہ دکانداروں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا اور گل پلازہ مال کو دوبارہ کھڑا کیا جائے گا۔

باہر نکلنے کے راستوں سے متعلق الزامات پر وضاحت دیتے ہوئے تنویر قاسم نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ گل پلازہ میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا، اس وقت پلازہ میں ساڑھے چھ ہزار کے قریب افراد موجود تھے، اگر راستے نہ ہوتے تو 10 منٹ کے اندر پورے مال کو خالی کرانا ممکن نہ ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ افراد میزنائن فلور پر رہ گئے تھے، جس کے باعث 50 سے 55 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم اگر راستے نہ ہوتے تو پانچ ہزار سے زائد افراد بحفاظت باہر نہ نکل پاتے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں