ہفتہ, مارچ 7, 2026
اشتہار

سانحہ گلُ پلازہ رپورٹ: ’ابتدائی فائر فائٹنگ ناکام اور پانی کی شدید کمی رہی‘

اشتہار

حیرت انگیز

سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انتظامی غفلت اور آگ پر قابو پانے میں مشکلات اور وجوہات سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

وجوہات

  • سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پانی کی فراہمی میں تاخیر سے ابتدائی فائر فائٹنگ ناکام رہی جب کہ فائر بریگیڈ کو شدید آگ سے نمٹنے کے لیے مناسب آلات میسر نہ تھے۔
  • ماچس جلانے سے مصنوعی پھولوں میں آگ بھڑ کی، آگ کا آغاز دکان نمبر 193 گراؤنڈ فلور میں ماچس سے ہوا اور  دکان میں آتش گیر سامان کے باعث  آگ تیزی سے پھیلی۔
  • گل پلازہ میں فائرالارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا جب کہ بجلی بند ہونے میں تاخیر سے آگ نے شدت اختیار کی۔
  • عمارت میں ایمرجنسی اخراج کے راستے ناکافی اور بند تھے، سیڑھیوں اورر استوں میں دھواں بھرنے سے متعدد افراد پھنس گئے۔ عمارت کا ڈیزائن فائر سیفٹی اصولوں کے خلاف تھا۔
  • رپورٹ میں پولیس کی کراؤڈ کنٹرول اور ریسکیو میں کمزوریوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق فائر سیفٹی آڈٹس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
  • گل پلازہ میں دکانوں کی تعداد منظور شدہ نقشے سے کہیں زیادہ تھی اور عمارت انتظامیہ کی غفلت سانحے کی بڑی وجہ بنی۔
  • اطلاع/رسپانس
  • ریسکیو 1122 کو آگ کی اطلاع 10:36 پر موصول ہوئی اور آگ لگنے کے بعد اطلاع دینے میں تاخیر ہوئی۔ ریسکیو 1122 کی پہلی ایمرجنسی یونٹ 10:37 پر روانہ ہوئی اور فائر ٹینڈرز کو پانی کی شدید کمی کا سامنا رہا۔
  • ابتدائی فائر ٹینڈرز کا پانی جلد ختم ہونے سے آگ پر قابو نہ پایا جا سکا، پانی بھرنےکےلیے فائر ٹینڈرز کو واپس جانا پڑا اور آگ مزید پھیلتی گئی۔
  • عمارت میں فائر فائٹنگ کےلیے مناسب رسائی موجود نہیں تھی۔ تنگ راستے، بند گیٹس اور سیل کھڑکیوں نے ریسکیو آپریشن شدید متاثر کیا۔
  • ریسکیو 1122 کے مطابق عمارت کی ساخت غیرمحفوظ تھی، عمارت کے ڈیزائن نےآگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی، ریسکیو 1122 نے ریسکیو آپریشن کو انتہائی مشکل قرار دیا شدید دھواں، حدت اور اندھیرا اہلکاروں کےلیے جان لیوا ثابت ہوا۔
  • میز نائن فلور پر متعدد افراد پھنسے رہے، بروقت کٹنگ ٹولز نہ ہونے سے لوہے کی گرِلز کاٹنے میں تاخیر ہوئی، ریسکیو 1122 کے پاس بھاری آگ کیلئے درکار جدید آلات موجود نہیں تھے، شدید آگ بجھانےکیلئے وسائل ناکافی تھے۔

فوری پانی نہیں تھا

  • رپورٹ کے مطابق آگ بجھانے کیلئے مستقل اور فوری پانی کی فراہمی موجود نہیں تھی، فائر فائٹنگ کےلیے مخصوص واٹر سپلائی سسٹم فعال نہیں تھا، ہائیڈرنٹس سے پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔
  • ابتدائی طور پر ہائیڈرنٹس سے مسلسل پانی دستیاب نہ ہونے سے وقت ضائع ہوا، ہائیڈرنٹس پر پانی کا پریشر ناکافی تھا، ہائیڈرنٹس پر پریشر اتنا کم تھا کہ فائر ٹینڈرز مؤثر طریقے سے کام نہ کر سکے۔
  • پہلا باقاعدہ واٹرسپلائی رابطہ دیر سے قائم ہوا، تقریباً 11:53 کے بعد ہائیڈرنٹس سے باقاعدہ پانی ملنا شروع ہوا، تاخیر سے پانی ملنے کے دوران آگ انتہائی شدت اختیار کر چکی تھی، پانی کی فراہمی میں تسلسل برقرار نہ رکھا جا سکا، پانی کی سپلائی بار بار متاثر ہونے سے فائر فائٹنگ کا عمل ٹوٹتا رہا۔

دروازے بند

  • آگ بجھانے کیلئے مزید فائر ٹینڈرز تاخیر سے پہنچے، مارٹن روڈ سائیڈ سے اضافی گاڑیاں 10:49 اور 10:51 پر پہنچیں، لوگ جان بچانے کےلیے چھلانگیں لگاتے دکھائی دیے، فوٹیج میں افراد کو عمارت سے باہر نکلنے اور بھاگتے دیکھا گیا۔
  • گیٹ 6 رات 10:05 پر بند اور 10:25 پر کھولا گیا، گیٹ  8 کی صورتحال واضح نہیں ہو سکی، گیٹ 9رات 10:11 پر بند اور 10:25 پر کھولا گیا، گیٹ 13 رات 10:50 تک کھلا رہا۔
  • فوٹیج میں میزنائن فلور میں پھنسے افراد کی جھلک ملی ہے، فوٹیج سے اندازہ ہوا میزنائن فلور پر دھواں تیزی سے پھیلا اور نکلنے کے راستے محدود تھے۔
+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں