ورلڈ میمن آرگنائزیشن کے صدر سلمان اقبال نے سانحہ گل پلازہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع اورمتعدد افراد کے لاپتہ ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری، ذمہ دارانہ اور فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر ورلڈ میمن آرگنائزیشن سلمان اقبال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بنیادی حفاظتی نظام ایمرجنسی رسپانس باربار ناکام ہو تو کوئی بھی شہر معاشی مرکز نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ تاجروں کی جانب سے فائرٹینڈرز کے تاخیر سے پہنچنے کے سنگین خدشات سامنے آئے۔ ریسکیو کارروائیاں پانی کی شدید کمی سے متاثر ہوئیں۔ ہولناک حادثےمیں ہزاروں تاجروں ،مزدوروں کی زندگیاں تباہ ہوگئیں۔
گل پلازہ کے ہزاروں تاجروں، محنت کشوں کی اکثریت کا تعلق میمن برادری سے ہے، ان تاجروں کی برسوں کی محنت اورجمع پونجی راکھ میں تبدیل ہو گئی۔
سلمان اقبال نے کہا کہ کراچی کے تجارتی مراکز میں کسی بھی حادثے کا سانحے میں بدلنا لمحہ فکریہ ہے۔ کراچی میں خوفناک آگ کے واقعات فائرسیفٹی ،ہنگامی تیاریوں کی ناکامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، اس طرح کے واقعات کا دوبارہ ہونا احتساب کے کمزور عمل کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔
ورلڈ میمن آرگنائزیشن کی جانب سے سلمان اقبال نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محض رسمی تعزیتی بیانات کافی نہیں، متاثرین کوفوری امداد درکار ہے۔ متاثرین کی مکمل بحالی اور انھیں انصاف بھی ملنا چاہیے۔
صدرڈبلیو ایم او سلمان اقبال نے کہا کہ وہ ذاتی طور پرگل پلازہ کے متاثرہ تاجروں سے ملاقات کریں گے۔ ورلڈ میمن آرگنائزیشن کےپلیٹ فارم سےمتعلقہ حکام سے بھی رابطہ کرینگے، متاثرین کوان کا جائزحق، معاوضہ، بحالی اورمکمل معاونت یقینی بنائیں گے۔
سلمان اقبال نے کہا کہ سندھ حکومت فوری امدادی اور معاوضہ پیکج کا اعلان کرے، آزاد اور اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیٹی قائم کرے۔
سندھ حکومت گل پلازہ کی مکمل بحالی و تعمیرِنوکا جامع منصوبہ شروع کرے۔۔ریسکیو اورہنگامی ردِعمل سمیت شفاف تحقیقات کرکےذمہ داروں کاتعین کیا جائے۔
صدرڈبلیو ایم او نے کہا کہ کراچی بھر میں فائر اور بلڈنگ سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، مسلسل غفلت مزید جانوں اور روزگار کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


