کراچی: سانحہ گل پلازہ میں ایک اور گھر کا چراغ بجھ گیا، 45 سالہ تنویر احمد خان کی لاش گزشتہ روز عمارت کے ملبے سے نکالی گئی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق گل پلازہ میں ڈنر سیٹ کی دکان میں سیلز مین کا کام کرنے والے کورنگی کے رہائشی 45 سالہ تنویر احمد بھی زندگی کی بازی ہار گئے۔
بھائی نے بتایا کہ 11 بجے ہم گل پلازہ پہنچے تو آگ دوسرے فلور تک پھیل چکی تھی بھائی اسی فلور پر ڈنر سیٹ کی دکان پر سیلز مین تھے، ڈسی آفس میں بھائی کا نام لکھوایا جب بعد میں سول اسپتال پہنچے وہاں بھائی کا شناختی کارڈ ہمیں دیا گیا اور بتایا کہ ڈیتھ باڈی سہراب گوٹھ سرد خانے میں موجود ہے۔
تنویر کے بھائی نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ جب سہراب گوٹھ پہنچے تو دیکھا کہ ڈیتھ باڈی بھائی کی ہی تھی۔
یہ پڑھیں: گل پلازہ کی تمام خبریں
بیٹے نے بتایا کہ والد نے مجھ سے کہا تھا کہ آکر سم نکلوانی ہے میں نے ان سے کہا کہ آپ گھر آجائیں پھر ساتھ چل کر سم نکلوالیں گے، پتا نہیں تھا کہ وہ اب نہیں آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دو دن تک وہ ملبے کے نیچے دبے رہے کسی نے نہیں بچایا۔
عشرت خان اے آر وائی نیوز کراچی سے وابستہ ہیں


