ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

سانحہ گل پلازہ: تنویر پاستا نے سانحہ میں اموات کا ذمہ دار ریسکیو کے سست انتظامات کو قرار دیدیا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی(14 مارچ 2026): گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سوالنامے کا جواب جمع کرا دیا ہے، جس میں انہوں نے ریسکیو آپریشن پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

تنویر پاستا نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا کہ سانحہ میں ہونے والی اموات کی اصل ذمہ دار ریسکیو کے سست انتظامات تھے۔ انہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی صبح 10 بجکر 55 منٹ پر پہنچی لیکن محض 20 منٹ میں اس کا پانی ختم ہو گیا، جبکہ مزید دو فائر ٹینڈر ساڑھے 11 بجے پہنچے۔ تب تک آگ گراؤنڈ فلور پر تینوں اطراف پھیل چکی تھی۔

ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق ریسکیو اہلکاروں کے پاس مناسب آلات، ماسک اور حفاظتی سامان موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ عمارت میں داخل ہو کر پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے قابل نہیں تھے۔ فائر فائٹرز کے پاس آگ بجھانے کے لیے فوم یا کیمیکل بھی موجود نہیں تھا۔ انتظامیہ نے اپنی مدد آپ کے تحت نجی ٹینکرز کا انتظام کیا جبکہ واٹر کارپوریشن کے ٹینکرز فجر کے بعد فراہم کیے گئے۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ اگر ریسکیو اداروں کے پاس حفاظتی آلات ہوتے تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ بجلی بند ہونے کی وجہ سے لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات نہیں ہو سکے، تاہم انتظامیہ اور دکانداروں نے آوازیں لگا کر لوگوں کو باہر نکلنے کی ہدایت کی۔

تنویر پاستا نے بتایا کہ گل پلازہ میں ساڑھے 3 ہزار افراد موجود تھے جن میں سے بیشتر کو نکال لیا گیا تھا۔ عمارت کے تمام 16 راستے کھلے تھے جن سے ہزاروں افراد باہر نکلے، جبکہ دوسری منزل پر ایک شٹر بند پایا گیا جو غالباً آگ کی شدت سے اسپرنگ متاثر ہونے کی وجہ سے بند ہوا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مارکیٹ میں مصنوعی پھول، کھلونے، گارمنٹس اور اسپرے جیسے آتش گیر سامان موجود تھے اور چھت پر 7 میں سے 5 ڈیزل جنریٹر فعال تھے۔ جاں بحق ہونے والے 72 افراد میں سے 51 مارکیٹ سے وابستہ تھے۔

دوسری جانب کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر گل پلازہ ایسوسی ایشن نے کسی بھی دکان کے ٹائٹل یا ان کی قانونی حیثیت سے متعلق ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔ اس کے علاوہ مارکیٹ سے مینٹی ننس وصولی کی قانونی حیثیت اور غیر رجسٹرڈ تنظیم کے بائی لاز کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں