کراچی: گل پلازہ کے سانحے میں عمارت کے گرنے کے مناظر کیمرے میں قید ہوگئے، لوگ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے رہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق گل پلازہ کی عمارت کے سامنے کی سائیڈ کا ایک اور حصہ گر گیا، اسنارکل کے ہٹتے ہی عمارت کا حصہ زمیں بوس ہوگیا، وہاں موجود لوگوں نے یہ منظر دیکھا اور اسے کئی لوگوں نے اپنے کیمرے میں قید کرلیا۔
عمارت کے گرنے کا منظر دیکھ کر لوگ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے لگے، عمارت میں اب بھی آگ لگی ہوئی ہے اور اس پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ 53 افراد لاپتہ ہیں۔
گل پلازہ کی عمارت بالکل بوسیدہ اور خستہ حال ہوچکی ہے، جس جگہ پر مستقل آگ لگی رہے، وہاں عمارت میں پہلے کریک پڑنے شروع ہوتے ہیں اس کے بعد مختلف حصے گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔
gul plaza تمام خبریں
جس وقت یہ عمارت گری اس وقت ایک فائر فائٹر اپنی جان بچا کر بھاگتا ہوا بھی نظر آیا جبکہ اس دوران لوگوں نے کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔
دریں اثنا تاجر رہنما جمیل پراچہ نے کہا کہ گل پلازہ کے 2 حصے منہدم ہوچکے ہیں، اطلاعات ہیں گل پلازہ میں متعدد لوگ دبے ہوئے ہیں، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ایک گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں۔
انھوں نے کہا کہ 6 کےقریب خواتین بھی گل پلازہ میں پھنسی ہوئی ہیں، جانی نقصان کاازالہ کون کرےگا؟ وزیراعلیٰ سندھ کئی گھنٹے گزرنے کے بعد گل پلازہ آئے، میئرکراچی نے اب تک گل پلازہ کا دورہ نہیں کیا
جمیل پراچہ نے کہا کہ گورنرسندھ بھی صرف 2 سے 3 گھنٹے کیلئے آئے تھے، گل پلازہ کی دوبارہ تعمیرکی جائے، متاثرین کو ریلیف فراہم کریں، غیرجانبدار کمیٹی بناکر واقعے کی تحقیقات کی جائیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


