وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کا سانحہ گل پلازہ کے مقدمے سے متعلق اہم بیان آگیا۔
صحافی نے وزیر داخلہ سے سوال کیا کہ سانحہ گل پلازہ کا ذمہ دار کون ہے اور مقدمہ کب درج ہو گا؟ جس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ابھی کچھ چیزوں کی وضاحت ضروری ہے، اے آئی جی کو چند اہم پوائنٹس بتا دیے جس کے بعد مقدمہ درج ہو گا۔
وزیرداخلہ نے واضح کیا کہ سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں ہی درج کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سانحہ گل پلازہ بہت بڑا ہے فیکٹ فائنڈنگ کے بعد حقائق واضح ہوں گے سندھ حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی ہو گی۔
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دکان میں لگنے والی آگ اے سی گیس کی وجہ سے تیزی سے ہر طرف پھیلی۔
کراچی میں سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جاری ہے ، ذرائع نے بتایا گل پلازہ میں لگنے والی آگ 10 سے 15 منٹ میں پوری عمارت میں پھیل گئی۔
تحقیقاتی ذرائع نے بتایا ابتدائی تحقیقات کے مطابق دکان میں لگنے والی آگ اے سی گیس کی وجہ سے تیزی سے ہر طرف پھیلی، جبکہ پلازہ میں حفاظتی اقدامات اور بجلی کی تاروں کا نظام مناسب نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق داخلی اور خارجی راستے تنگ تھے، جس کی وجہ سے آگ کے پھیلاؤ اور امدادی کارروائی متاثر ہوئی تاہم تحقیقاتی ٹیم آگ کے پھیلنے میں ممکنہ تخریب کاری کے پہلو پر بھی تحقیقات جاری رکھے گی۔
آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے کمشنرکراچی کی سربراہی میں کمیٹی کام کر رہی ہے۔
سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کر دی گئی جس میں کیا گیا ہے کہ شاپنگ سینٹر کی زمین کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کی ملکیت تھی۔
سندھ حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی زمین 1883 میں ٹرام سروس کیلیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی، زمین فاروق ستار کی میئرشپ کے دوران جنیکا کمپنی کو لیز پر دی گئی جبکہ لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل زمین جنیکا نامی گروپ نے خریدی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


