کراچی : گل پلازہ سانحے کے بعد لاپتا افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر ہیں۔ ایک لاپتا شخص کے رشتہ دار نے غم سے نڈھال آواز میں کہا “یہاں سیل لگی تھی، کیا پتا تھا موت نے سیل لگا رکھی ہے”۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے نہ صرف زندگیوں کے چراغ بجھا دیے بلکہ کئی گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے کر دیے۔
سانحے کے بعد خواتین اور بچوں سمیت لاپتا افراد کے ورثا غم، بے بسی اور اذیت کی تصویر بنے ہوئے ہیں، جو اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر پھرتے نظر آ رہے ہیں۔
گل پلازہ آتشزدگی میں لاپتا ہونے والے افراد کے رشتے دار اپنے پیاروں کی ایک جھلک کے لیے اسپتالوں، امدادی مراکز اور جائے وقوعہ کے چکر لگا رہے ہیں۔
ایک معمر خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا پچیس سالہ پوتا گل پلازہ میں کام کرتا تھا، جو کل رات سے لاپتا ہے، کل رات گاؤں سے واپس آئی تھیں، صبح نو بجے آگ لگنے کی خبر ملی، جس کے بعد سے پوتے کا کوئی اتا پتا نہیں۔
متاثرہ شہری نے کہا کہ اس کی بیٹی اور دو بہنیں آگ لگنے کے بعد سے لاپتا ہیں ، رابطے کی ہر ممکن کوشش کی، تمام اسپتال بھی چیک کر لیے، مگر کوئی خبر نہیں مل سکی۔
ایک اور شہری نے بتایا کہ اس کا چھوٹا بھائی فیضان پلازہ کے اندر موجود تھا، کل رات فون پر بات ہوئی تھی، وہ دکان میں چھپا ہوا تھا، مگر اب اس کا موبائل فون بند آ رہا ہے۔
ایک اور متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ اس کا دوست کل رات ساڑھے نو بجے گل پلازہ آیا تھا، اس کے بعد سے اس سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
سانحہ گل پلازہ نے کئی خاندانوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے، اور لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کی آنکھیں اب بھی کسی معجزے کی منتظر ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


