کراچی : گل پلازہ سانحہ کی تحقیقات جاری ہے، شہری نے تفتیشی حکام کو بیان میں کہا دبئی کراکری کے دکانداروں نے لوگوں کو باہر نکلنے سے روکا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کو 17 روز گزر چکے ہیں جبکہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی نے سانحے میں 79 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 68 جاں بحق افراد کی میتیں اور باقیات ورثا کے حوالے کی جا چکی ہیں، تاہم خرم نامی شخص سمیت 5 افراد کی باقیات اب بھی ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں جن کا تاحال کوئی وارث سامنے نہیں آ سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سانحے میں 4 سے زائد افراد کی باقیات ابھی تک نہیں مل سکیں۔
تحقیقات کے دوران گل پلازہ کی دکان نمبر 193 کے ایک بچے کا تیسری بار بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، آگ دکان نمبر 193 میں ماچس جلانے سے لگی۔
ذرائع نے بتایا کہ پلازہ کی پہلی اور دوسری منزل کی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہو سکی۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیم نے ریسکیو آپریشن کے بجائے فوری طور پر پانی مارنا شروع کر دیا تھا۔
دھواں بھرنے کے تقریباً 20 منٹ بعد دکانداروں نے گرل توڑی، اس دوران زیادہ تر افراد باہر نکل گئے تاہم 25 سے 30 افراد دبئی کراکری میں پھنس کر رہ گئے۔
شہریوں کے بیانات کے مطابق دبئی کراکری کے دکانداروں نے لوگوں کو باہر نکلنے سے روکا جبکہ ایک دکاندار نے بیان دیا کہ اس نے تقریباً 150 افراد کو راستہ دکھایا اور گاہکوں کو کہا گیا کہ آگ خود بخود بجھ جائے گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


