کراچی : گل پلازہ سانحے کے بعد کراچی میں ہنگامی سروے کے دوران یک ہی روز میں 100 سے زائد عمارتوں کو نوٹس جاری کردیا گیا ورخبردار کیا 3 دن کے اندر آگ سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کریں۔
تفصیلات کے مطابق گل پلازہ سانحے کے بعد کراچی میں ہنگامی سروے اور حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے،غفلت برتنے پر ایک ہی روز میں 100 سے زائد عمارتوں کو نوٹس جاری کردیا گیا۔
نوٹس شاپنگ مالز، اسٹورز، رہائشی عمارتوں اور اسپتالوں کو جاری کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ عمارت میں آگ بجھانے کے انتظامات ناکافی یا غیر فعال ہیں۔
عمارت کے مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین دن کے اندر آگ سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات مکمل کریں، اگر تعمیل نہ کی گئی تو ایف آئی آر سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا کہ عمارتیں مکمل طور پر فائرفائٹنگ اور فائر ریزسٹنس سسٹم سے لیس ہوں، ہنگامی راستے اور سیڑھیاں ہر وقت صاف، قابل رسائی اور فعال رکھیں، برقی وائرنگ کی دیکھ بھال، لوڈ مینجمنٹ اور ہنگامی روشنی کی تنصیب لازمی ہے جبکہ عمارت کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کیلئےہر وقت محفوظ ہو۔
آگ بجھانے والے آلات ،گیندوں کی فراہمی اور مناسب جگہ کا تعین کریں جبکہ راستوں، راہداریوں اورہنگامی راستوں سےآتش گیرموادکوہٹایا جائے اور یقینی بنائیں کہ ہنگامی راستےاورسیڑھیاں صاف، قابل رسائی اور فعال ہوں۔
مناسب جگہوں پرہنگامی روشنی کی تنصیب، ہنگامی اشارےانسٹال کروائیں ساتھ ہی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تربیت یافتہ فائرفائٹرکوٹیم میں شامل کریں۔
تعمیل کرنےمیں ناکامی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور تکمیلی سرٹیفکیٹ کی منسوخی پرعمارت کو سیل ،ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔
ایس بی سی اے کا کہنا تھا کہ سروے کا عمل وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات پر کیا گیا، ڈی جی ایس بی سی اے کی جانب سے سخت احکامات جاری کیے گئے، نوٹس جاری ہونے کے تین دن کے اندر تعمیل لازمی ہے۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


