کراچی: سانحہ گل پلازہ پر شوبز شخصیات نے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
کراچی کے تاریخی گل پلازہ میں آتشزدگی کے سانحے نے ناصرف شہریوں بلکہ پورے ملک کو گہرے صدمے میں مبتلا کردیا ہے اب تک 26 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ کئی افراد اب بھی لاپتا اور متعدد زخمی ہیں۔
اس سانحے پر شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی کئی معروف شخصیات نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
اداکارہ ہانیہ عامر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ گل پلازہ میں جو ہوا وہ تباہ کن ہے۔ جانیں اس طرح ضائع ہوئیں جو کبھی نہیں ہونی چاہئیں۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا، یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کس طرح لاپرواہی، نظر انداز حفاظت، اور خاموشی حقیقی لوگوں کو ان کے مستقبل کی قیمت دیتی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ہم تعزیت سے زیادہ متاثرین کے مقروض ہیں، ہم ان کے احتساب کے مرہون منت ہیں۔ خاندانوں کو ناقابل تصور نقصان میں طاقت ملے۔
منال خان نے کہا کہ یہ شہر، جو ملک کا معاشی دل ہے، ایک ’اجنبی یتیم‘ کی طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے، جسے نہ صوبہ پوری طرح اپناتا ہے اور نہ ہی مرکز۔
اداکارہ نے لکھا کہ کراچی ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے اور پھر بھی اس کے ساتھ ایک بوجھ جیسا سلوک کیا جاتا ہے، بیانات جاری کیے جاتے ہیں پھر خاموشی ہوجاتی ہے۔
منال خان نے کہا کہ گل پلازہ کبھی بھی صرف ایک عمارت نہیں تھی، وہ کھلونے جن کے ساتھ ہم بچپن میں کھیلتے ہیں، وہ پلیٹیں جن سے ہم اب بھی کھاتے ہیں، ان میں بہت سے چیزیں وہیں سے آتی ہیں، اسے جلتے ہوئے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے بچپن کی یادیں راکھ میں بدل گئیں۔
اداکارہ سجل علی نے لکھا کہ ’’گل پلازہ میں کیا ہوا دیکھ کر دل ٹوٹ گیا۔ میری دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھودیا ایسے نقصان کے لیے کوئی الفاظ کافی نہیں ہیں۔‘‘
صبور علی نے بھی اس المیے پر ردِعمل دیتے ہوئے بس اللہ سے رحم کی دعا کی اور کہا کہ الفاظ اس دکھ کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
اداکارہ و گلوکار ثمر جعفری، اداکارہ ژالے سرحدی اور کامیڈین علی گل پیر نے بھی مرحومین کے لیے دعائیں کیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی امید ظاہر کی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں






