کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کی انکوائری سے متعلق جوڈیشل انکوائری کیلیے خط کا جواب دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی انکوائری کے لیے جوڈیشل انکوائری سے متعلق خط سندھ ہائیکورٹ کو موصول ہو گیا، جس پر عدالت نے اپنا تحریری جواب بھی ارسال کر دیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت حکومت خود انکوائری کرا سکتی ہے، انکوائری ایکٹ کے تحت سابق جج یا کسی قانونی ماہر پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ حاضر سروس افسر سے انکوائری کے حوالے سے سپریم کورٹ عابد شاہد زبیری بنام وفاقِ پاکستان کیس میں پہلے ہی معیارات طے کر چکی ہے۔ خط میں دی گئی درخواست سپریم کورٹ کے 2023 کے فیصلے کے مطابق نہیں۔
سندھ ہائیکورٹ نے اپنے جواب میں کہا کہ حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ انکوائری سے متعلق یہ خط گورنر سندھ کو پیش کرے۔
مزید پڑھیں : سانحہ گل پلازہ کا ذمہ دار کون؟ انکوائری کےلیے جج نامزد کرنے کی درخواست
یاد رہے گذشتہ روز سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقات کےلئے باضابطہ خط لکھا تھا، جس میں ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج سے سانحے کی انکوائری کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی نے عدالتی انکوائری کا فیصلہ کیا تھا ، جس میں گُل پلازہ واقعہ میں ذمہ داری اورانتظامی غفلت کا تعین کیا جائے گا۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے انکوائری کےلیے جج نامزد کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں


