کراچی : سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ دکاندار پھٹ پڑا اور کہا کاروبار پھر ہو جائے گا لیکن بچہ کہاں سے لائیں گے، کسی بڑے آدمی کا بچہ ہوتا تو قانون بدل جاتا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے پھر شہر کو آگ کے رحم و کرم پر دکھا دیا۔
ایک دکان سے شروع ہونے والی یہ آگ دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو نگل گئی، جس سے نہ صرف دکانیں جل گئیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کی عمر بھر کی کمائی راکھ ہو گئی۔
متاثرہ دکاندار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: “کاروبار دوبارہ شروع ہو جائے گا، لیکن بچے کہاں سے لائیں گے؟ کسی بڑے آدمی کا بچہ ہوتا تو قانون بدل جاتا۔ یہ کیسا آپریشن چل رہا ہے، صرف پانی مار رہے ہیں۔ پوری عمارت گر گئی، آگ نہ بجھائی جا سکی، ہم ٹیکس دیتے ہیں، اس حادثے کا ذمہ دار کون ہے؟”
دکانداروں نے واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومتی انتظامات پر سوال اٹھائے اور کہا کہ ریسکیو اور فائربریگیڈ کی بروقت کارکردگی نہ ہونے کی وجہ سے نقصان بہت زیادہ ہوا۔
سانحہ گل پلازہ نے نہ صرف تجارتی نقصان پیدا کیا بلکہ متعدد خاندانوں کو مالی اور جذباتی بحران میں ڈال دیا ہے، اور متاثرہ افراد انصاف اور ازالے کے منتظر ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


