کراچی: گل پلازہ کے ملبے سے ملنے والی رقم پر تاجر الجھ پڑے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق گل پلازہ کے باہر گارڈن سائیڈ پر امدادی ٹیموں کی جانب سے ریسکیو کارروائی جاری ہے اس دوران وہاں پر دراز ملا جس میں دو لاکھ روپے سے زائد رقم موجود تھی۔
ملبے سے جیسے ہی رقم ملی تو وہاں پر موجود تاجر رقم کی ملکیت پر آپس میں الجھ پڑے۔
تاجروں کے درمیان کافی دیر تک رقم کے معاملے پر بحث ہوتی رہی جس کے بعد ریسکیو حکام نے رقم متعلقہ ادارے کے حوالے کردی۔
واضح رہے کہ چیف فائر آفیسر محمد ہمایوں خان نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 34 گھنٹے بعد قابو پا لیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے۔ اب تک درجنوں افراد جھلس کر جاں بحق ہو چکے ہیں اور کئی لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
فائر بریگیڈ حکام نے کہا تھا کہ عمارت گرنے کا خدشہ ہے اسی لیے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے، کھنڈر بنے گل پلازہ میں کولنگ کا عمل اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے، امدادی کارروائیوں اور ملبہ ہٹانے کیلیے پاک فوج اور ایف ڈبلیو او کی بھاری مشینری اور دستے بھی شامل ہیں۔
چیف فائر آفیسر کا کہنا تھا کہ عمارت مخدوش ہے زیادہ دیر اندر رہنا خطرناک ہے۔
تاہم، کراچی کے چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے اس موقع پر نہایت کمزور اور متنازع بیانات بھی دیے ہیں جیسے کہ انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کے مقام پر لوگوں کا جم غفیر موجود تھا اور ہجوم کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچا محض لفظی باتیں ہو سکتی ہیں، میئر کراچی آن بورڈ تھے اور انہیں لمحہ بہ لمحہ تفصیلات فراہم کی جا رہی تھیں، پانی کی شارٹیج اور دیگر ضروری وسائل بھی ہمیں مسلسل فراہم کیے جا رہے تھے اور پہلے ہی دن آگ بجھانے کے لیے فوم کا استعمال کیا گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے بیان کے مطابق اب تک گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، آپریشن کے دوران لاشیں نکالنے کا عمل تاحال جاری ہے، اور ناقابل شناخت لاشوں کو ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔


