خلیجی ممالک کی لڑائیوں کے پیچھے امریکہ کیسے کارفرما تھا؟ -
The news is by your side.

Advertisement

خلیجی ممالک کی لڑائیوں کے پیچھے امریکہ کیسے کارفرما تھا؟

سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ 1983 کے مطابق امریکہ نے عراق کے صدر صدام حسین کو یہ کہہ کر شام پر حملہ کرنے کے لئے اکسایا تاکہ وہ اپنے قدرتی ذخائر کو دیگر خلیجی ممالک سے محفوظ کرسکے.

ڈیلی میل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی سی آئی اے آفیسر گراہم فلر نے انکشاف کیا کہ امریکہ نے عراق کو شام پر حملے کے لئے یہ کہہ کر اکسایا کہ ’شام پرحملہ کرکے گلف ممالک سے اپنا تیل اوردیگر ذخائرمحفوظ کرو کیونکہ یہ ممالک تھمارے قدرتی ذخائرپرنظر رکھیں ہوئے ہیں‘.

سابق سی آئی اے سینئرافسر کے مطابق عراق کے صدرصدام حسین کے سامنے ان کا قدرتی تیل ان کی زندگی کا درجہ رکھتا تھا اور وہ اس پر ذرا بھی آنچ نہیں آنے دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے شام کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔

گراہم فلرکے مطابق شام کو تین سرحدوں عراق ، اسرائیل اور ترکی پر گہری مخالفت کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حافظ الاسد کو عراق حملے کے بعد تین جنگجو فورسز کا سامنا کرنا پڑا.

خلیجی ممالک کی اس جنگ نے شام سمیت دیگر گلف ممالک کو بھی شدید نقصان پہنچایا،اسی دوران شام اور لبنان کا تنازعہ بھی اٹھ کھڑا ہوا جس پر بشارالاسد کو اپنے عوام کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ، بشارالاسد پر ایک اور کھٹن مرحلہ آیا جب اسے بیرون ممالک کے ساتھ اندورنی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑرہا تھا.

سی آئی اے کے سینئر آفیسر کا کہنا ہے کہ شام لبنان تنازعہ کے دوران عراق نے کچھ دنوں کے لئے جنگ کو وقفہ دیا حالانکہ عراق کو عرب ممالک سے رابطہ رکھنا چائیے تھے مگر اس نے ایسا نہیں کیا اور شام کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی معاملات خراب کرلیے.

خفیہ رپورٹ میں درج ہے کہ امریکہ اور اسرائیل شام کے وقار کو مجروح کرکے اُسے لگام دینے کے خواہشمند تھے، گراہم فلر نے کہا کہ اسرائیل کی حربی حکمت علمی کا مشاہدہ کرکے شام کوکہنا پڑا کہ اصل خطر ہ اسرائیل ہے عراق نہیں.

گلف وارمیں ترکی نے امریکن ریشہ دونیوں کا ساتھ دیا اور عراق نے اپنی مقامی کرد آبادی کے ذریعے اس جنگ میں حصہ لیا، گھمسان کی یہ جنگ شمالی شام میں لڑی گئی ، جسے امریکہ اور اسلامی ممالک کے اتحاد نے ختم کروایا، مگر جب تک بہت نقصان ہو چکا تھا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں