The news is by your side.

Advertisement

گلشن اقبال میبنہ جعلی پولیس مقابلہ، آئی جی سندھ کا نوٹس

کراچی: گزشتہ روز گلشن اقبال کے علاقے نیپا چورنگی پر ہونے والا پولیس مقابلہ مشکوک بن گیا، ڈاکو قراردیکر پولیس نے رینجرز اسکول کے طالب علم کو مبینہ مقابلے میں مار دیا،آئی جی سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا حکم دیدیا۔

پولیس حکام کے مطابق گزشتہ روز گلشن اقبال کے علاقے نیپاچورنگی پل کے نیچے مبینہ پولیس مقابلے میں ایک شخص کو ڈاکو قراردے کر ماردیاگیا تھا جبکہ ایک کوزخمی کرکے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیاگیا تھا تاہم ڈاکو قراردیے گئے مقتول عتیق کے اہلخانہ کے مطابق وہ رینجرز اسکول کا سیکنڈایئرکا طالب علم تھا۔

مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے رینجرز اسکول کے طالب علم کے عزیز ولی اللہ کے مطابق عتیق اور عزیز موٹر سائیکل پر کوچنگ سینٹر جارہے تھےکہ ناکے پر کھڑی پولیس موبائل نے رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ رفتار کے باعث نہیں رُک سکے جس پر پولیس اہلکار نے فائرنگ کر دی تاہم زخمی ہونے والے طالب علم عزیز نے کہا کہ ’’اندھیرے میں کھڑی پولیس موبائل نہیں دیکھ سکے اور بائیک سلپ ہوگئی اسی اثناء پولیس نے فائرنگ کردی جس سے عتیق جائے وقوعہ پر دم توڑ گیا‘‘۔

student-3

عتیق کے عزیز نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس اہلکاروں نے مقتول کا رینجرز اسکول کارڈ اپنے پاس رکھ لیا، انہوں نے پولیس کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے۔

student-4

دوسری جانب ترجمان سندھ پولیس نے کہا ہے کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے نیپا چورنگی پر جمعے کی شب ہونے والے مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے کے حوالے سے میڈیا پر شائع ہونے والےخبروں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ سے واقعے کی شفاف اور منصفانہ انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

آئی جی سندھ نے واقعے کی جلد از جلد انکوائری اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو یقینی بنانے کے احکامات دیتے ہوئے حقائق منظر عام پر لانے کی ہدایت کی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں