منگل, ستمبر 8, 2026
اشتہار

نومولود کو جب بالائی منزل سے پھینکا گیا تو کیا وہ زندہ تھی؟ پولیس کا اہم بیان

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (12 اگست 2026): شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال بلاک 13، ڈی 2 میں نومولود بچی کو عمارت سے پھینکنے کے معاملے میں پولیس نے شک ظاہر کیا ہے کہ بچی پھینکے جانے کے وقت زندہ تھی۔

ذرائع کے مطابق پولیس کو شبہ ہے جب نومولود بچی کو اوپر سے پھینکا گیا تو وہ زندہ تھی، بچی کی عمر تقریباً 3 سے 4 دن تھی، اور عمارت کے ڈکٹ ایریا کی طرف نومولود کو اوپر سے نیچے پھینکنے کے شواہد بھی موجود ہیں۔

پولیس نے گلشن اقبال تھانے میں اس واقعے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ شام مددگار 15 پر شہری کی اطلاع ملی تو پولیس جائے وقوعہ پہنچی۔


کراچی میں نومولود کو بالائی منزل سے پھینک دیا گیا


پولیس حکام نے خیال ظاہر کیا ہے کہ پیدائش چھپانے کی نیت سے نومولود بچی کو رائل آئیکون اپارٹمنٹ کی بالائی منزل سے پھینکا گیا تھا، فلور کی دیواروں پر خون کے چھینٹے اور نشانات پائے گئے ہیں۔ بعد ازاں پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا ہے۔

نومولود کے ڈی این اے، سیرولوجی ٹیسٹ کے نمونے حاصل کر کے تحویل میں لے لیے گئے ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ دفعہ 329 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ نیز پولیس نے بچی کی نعش تدفین کے لیے ایدھی ہوم سہراب گوٹھ پہنچا دی ہے، اور لیڈی ایم ایل او سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ نمائندہ خصوصی ہیں، وہ 16 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔

مزید خبریں