site
stats
انٹرٹینمںٹ

معروف فلمی گیت نگار گلزارکی آج 80 ویں سالگرہ ہے

آج فلمی دنیا کے مشہور ومعروف شاعر گلزاراپنی زندگی کی 80 ویں سالگرہ منارہے ہیں، انہوں نے بے شمار فلمی گیت لکھے ہیں اور کئی فلموں میں ہدایت کاری بھی کی ہے۔

گلزا رپاکستان کے شہر جہلم کے قریب دینہ میں 1936ء میں پیدا ہوئے، ان کا اصلی نام سمپورن سنگھ ہے۔ تقسیم برصغیر کے وقت وہ بھارت چلے گئے۔ ابتدائی زندگی میں موٹر مکینک تھےلیکن شاعری اور فلمی دنیا کی طرف رحجان انھیں فلمی صنعت کی طرف لے گیا۔ گلزار نے فلمی اداکارہ راکھی سے شادی کی۔

gulzar-post-1

گلزار نے بطور ہدایتکار اجازت ، انگور ، دل سے ، معصوم آندھی، پریچے، موسم اور ماچس جیسی فلمیں بنائیں ۔ ان کا ٹیلی ڈراما مرزا غالب ایک کلاسیک کی حیثت رکھتا ہے۔

گلزار نے بطور شاعر بے شمار فلموں میں کے لیے گیت لکھے۔ ان کی فلمی شاعری میں بھی ایک اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔ ان کے انوکھے اور نادر تشہبات کا استعمال ان کے گیتوں میں نئے رنگ بھر دیتا ہے۔ ان کے گیت نہ صرف ماضی میں پسند کیے جاتے رہے ہیں بلکہ آج کے دور میں بھی ان کے گانوں کو نوجوان شوق سے سنتے ہیں۔

سنیمابین چند سال قبل ریلیز ہوئی مشہور فلم بنٹی اور ببلی کے سپرہٹ گانے ’کجرا رے’ کو نہیں بھولے یا پھر فلم اوم کارا کا انتہائی مقبول گانا ’بیڑی جلائی لے‘ یا پھر حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم کمینے کا ہٹ نغمہ ’رات کے بارہ بجے’ ہو جو آج بھی ٹاپ دس گانوں کی فہرست میں شامل رہتا ہے، گلزار کی قلم سے نکلا ہر نغمہ عوام کے دل و دماغ پر مخصوص چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ فلم سلم ڈاگ ملینئرکے لیے لکھے گئے گیت ’جے ہو‘ پر ان کو اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

gulzar-post-3

گلزار نے اردو میں شاعری کی اور گیت لکھے جو ہمیشہ کانوں میں رس گھولتے رہتے ہیں۔ انھیں 2004ء میں بھارتی حکومت کی طرف سے پدما بھوشن کا خطاب ملا۔ اُن کی بے لوث خدمات کے لیے 2009ء کا لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ ان کی گیتوں کے تراجم کی انگریزی میں کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔

گلزار کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی،حیدرآباد ننے 3 مارچ 2012 کواپنے چوتھے کانوکیشن میں ڈی۔لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا جبکہ 2013ء انہیں ہندوستانی سینما کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا۔

gulzar-post-2

 گلزار کا اصل نام سمپورن سنگھ تھا اور وہ ایک سکھ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے تاہم  انہوں پگڑی ترک کرکے بال کٹوادئے اور اسی بنا پر ان کے والد تادمِ مرگ ان سے ناراض رہے جس کا انہیں ہمیشہ سے افسوس ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top