site
stats
عالمی خبریں

بھارتی مذہبی رہنما پر جرم ثابت، حامیوں‌ کی ہنگامہ آرائی، 29 ہلاک،250 زخمی

نئی دہلی : بھارت کی خصوصی عدالت کی جانب سے مذہبی رہنما گرومیت رام رحیم کو خواتین سے زیادتی کا مجرم قرار دینے کے بعد مختلف شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے، پرتشدد واقعات میں 28 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے مذہبی رہنما گرومیت رام رحیم کو خواتین سے زیادتی کے الزام میں فرد جرم عائد کردی ہے، مجرم کو سزا دینے کا فیصلہ28 اگست کو سنایا جائے گا۔

فیصلے کے بعد رام رحیم کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور انہیں روہٹک جیل لے جایا جائے گا۔ مذہبی رہنما پر جرم ثابت ہونے کے بعد مختلف شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔

فیصلہ سنائے جانے کے موقع پرہریانہ اورپنجاب میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے، جہاں رام رحیم کے ہزاروں عقیدت مند موجود ہیں جبکہ اس موقع پر راجھستان میں انٹرنیٹ سروس اڑتالیس گھنٹے کے لئے بند کرکے دفعہ ایک سوچوالیس نافذ کردی گئی۔

خیال رہے کہ گرومیت رام رحیم پر عقیدت مند خواتین سے زیادتی کا الزام ہے، مذہبی رہنما کیخلاف مقدمہ10سال سے زیرسماعت تھا۔

بھارت کے مذہبی رہنما پر جرم ثابت ہونے کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے

دوسری جانب بھارت کے مذہبی رہنما پر جرم ثابت ہونے کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے ، بھارتی مذہبی رہنما کے کارکنان مشتعل ہوگئے، ریلوے اسٹیشن،اہم شاہراہوں پر جلاؤ گھیراؤ کیا اور پولیس اور میڈیا پر پتھراؤ کیا پتھراؤ سے متعدد اہلکار زخمی ہوگئے۔

بھارتی میڈیا نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیاہے، مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے آنسوگیس، واٹرکینن کااستعمال بھی کیا گیا، مشتعل افراد نے ریلوےاسٹیشن اور اہم شاہراہوں پرجلاؤ گھیراؤ بھی کیا

بھارتی فوج کی 2کمپنیاں حالات کنٹرول کرنے کیلئے تعینات کردی گئی ہے جبکہ چندی گڑھ، ڈیرہ، فیروز پور، بھٹنڈا، مانسا میں کرفیونافذ کر دیا گیا ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس  وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top