نیویارک (27 ستمبر 2025): کولمبیا کے صدر گستاؤ پیٹرو کے خطاب کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ سخت ناراض ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے کولمبین صدر کا امریکی ویزا منسوخ کر دیا گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ کولمبیا کے صدر گستاؤ پیٹرو نے نیویارک میں جمعہ کے روز ایک خطاب کیا جس میں وہ امریکی فوجیوں کو حکم ماننے سے انکار کرنے کی ترغیب اور تشدد پر اکسانے کے اشارے دے رہے تھے۔
محکمہ خارجہ نے آج ہفتے کے روز ایکس پر اپنے ایک پیغام میں لکھا: ’’ہم پیٹرو کا ویزا ان کی بے احتیاطی اور اشتعال انگیزی کی وجہ سے منسوخ کر دیں گے۔‘‘
Dijo usted Victoria que yo estaba del lado del mal, y usted, en cambio, se puso al lado de genocidas. Yo no. Yo los combato desde donde esté https://t.co/0zdqU2mspO
— Gustavo Petro (@petrogustavo) September 27, 2025
گستاؤ پیٹرو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود تھے، انھوں نے یو این کے دفتر کے سامنے جمع ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’میں امریکی فوج کے تمام سپاہیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی بندوقیں لوگوں کی طرف نہ کریں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکام کی پیروی نہ کریں بلکہ انسانیت کے احکام کی پیروی کریں!‘‘
پیٹرو دراصل نیویارک میں فلسطینی حامی مظاہرین کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے اپنی چند ویڈیوز دوبارہ شیئر کیں اور ایکس پر لکھا: ’’فلسطین کو آزاد کرو۔ اگر غزہ کا سقوط ہوا تو انسانیت مر جائے گی۔‘‘
منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں بھی گستاؤ پیٹرو نے ٹرمپ پر شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ امریکی صدر غزہ میں نسل کشی میں شریک ہے۔ انھوں نے کیریبین سمندر میں مشتبہ منشیات اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں پر امریکی میزائل حملوں کے سلسلے میں فوجداری کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے دو ہفتے قبل فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کے ہمراہ وفد کا نیویارک کے لیے ویزا بھی منسوخ کر دیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


