کراچی (11 مئی 2026): ایڈیشنل آئی جی کراچی کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے باجود شہر میں گٹکا ماوا کی تیاری اور فروخت نہ رک سکی۔
کراچی کے علاقے پاک کالونی میں قائم منی گٹکا ماوا کی فیکٹری میں گٹکے کی پیکنگ کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جو ایک شہری نے بنائی اور سوشل میڈیا پر وائرل کر دی۔
ویڈیو میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ایک شخص کو گٹکے کی پیکنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں وہ بتاتا ہے کہ گٹکے کی ایک پڑیا 100 سے 150 روپے میں فروخت ہوتی ہے۔
پیکنگ کرنے والے شخص نے ویڈیو میں انکشاف کیا کہ سلیمان اور محسن نامی افراد اسے گٹکا ماوا کی پیکنگ کے لیے لائے ہیں، اجرت کے بارے میں اس نے بتایا کہ اسے نہیں معلوم کہ کتنی رقم دی جائے گی اسے۔
کراچی : لڑکی سے ملنے آنے والا نوجوان غیرت کے نام پر قتل
پاک کالونی میں اس گٹکا فیکٹری کی موجودگی نے پولیس کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
دوسری طرف بلوچستان سے کراچی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے موچکو چیک پوسٹ پر سخت ناکہ بندی جاری ہے، موچکو پولیس نے مختلف کارروائیوں میں 5 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے گٹکا ماوا اور چھالیہ برآمد کر لیا۔ ایس ایس پی سنگھار ملک کے مطابق کار سے 7700 پڑیاں انڈین گٹکا برآمد ہوا ہے، جب کہ گرفتار ملزم کی شناخت شمس الرحمان کے نام سے ہوئی ہے۔
ایس ایس پی کے مطابق ایک رکشے سے 40 کلو چھالیہ اور مضرِ صحت ماوا برآمد ہوا اور ملزم کامران کو گرفتار کیا گیا، ایک اور کار سے 2750 پڑیاں انڈین گٹکا برآمد ہوا، اور 3 ملزمان ارشاد، گل زمان اور مدثر گرفتار ہوئے۔ گرفتار پانچوں ملزمان کے خلاف گٹکا ماوا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
افضل خان اے آر وائی نیوز سے وابستہ کرائم رپورٹر ہیں


