The news is by your side.

Advertisement

معیشت سکڑ نہیں رہی، بلکہ ساڑھے3 فیصد سے گروتھ بڑھ رہی ہے: حفیظ شیخ

اسلام آباد: مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ جب ہم آئے، سالانہ ساڑھے 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، جسے ہماری حکومت ساڑھے 13 ارب ڈالر پر لے آئی۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے اے آر وائی نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کیا. ان کا کہنا تھا کہ ایکسچینج ریٹ سے متعلق آئی ایم ایف سے کوئی بات نہیں ہوئی.

مشیر خزانہ نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ معیشت سکڑ رہی ہے، معیشت سکڑ نہیں رہی ، بلکہ ساڑھے3 فیصد سے گروتھ بڑھ رہی ہے.کوئی غلط فہمی ہوگی تو ہم تاجر کمیونٹی سے مکمل رابطے میں ہیں.

حفیظ شیخ نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ سے متعلق جو خبریں آرہی ہیں وہ بالکل غلط ہیں، امپورٹ گھٹانے کے لئے لگژری آئٹم پر ٹیکس بڑھائے گئے،ایکسپورٹ سیکٹر پر پھیلا جارہا ہے کہ ٹیکس لگایا گیا.

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایکسپورٹ سیکٹر پر کوئی بھی ٹیکس نہیں لگایا گیا، ایکسپورٹ سیکٹرکو گیس، بجلی کی فراہمی میں حکومت سبسڈی دے رہی ہے، را مٹیریل کی امپورٹ پر بھی سیلز ٹیکس ختم کیا ہے.

انھوں نے کہا کہ ایکسپورٹ بڑھنا شروع ہوگئی ہے، تفصیلات بھی دیں گے، اچھا ہے کہ لوگوں کے ذہن میں جوباتیں ہیں، ان کی حقیقت سامنے آرہی ہے.

خیال رہے کہ اے آر وائی نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن میں وزیر اعظم عمران خان نے سینیر اینکر پرسنز کو انٹرویو دیا، اس پر موقع پر  مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی بھی موجود تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں