The news is by your side.

Advertisement

قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کا 122 واں یومِ پیدائش آج منایا جارہا ہے

آج اردو کے قادرُ الکلام شاعر، پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا یومِ پیدائش ہے۔

ابُوالاثر حفیظ جالندھری کو ان کی پہچان جہاں ان کے قومی ترانے اور ملّی شاعری ہے، وہیں وہ اپنے رومانوی کلام اور گیت نگاری کے لیے بھی مشہور ہیں۔ جب کہ شاہنامۂ اسلام ان کی وہ منظوم تصنیف ہے جس پر انہیں فردوسیٔ اسلام کا خطاب دیا گیا تھا۔

حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے تھے۔ آج ان کی 122 ویں سال گرہ مناٸی جا رہی ہے۔

شاہنامۂ اسلام حفیظ جالندھری کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے۔ اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ حکومتِ پاکستان نے اسے 4 اگست 1954ء کو قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا۔ حفیظ جالندھری کی شاعری کی خوبی اس کی غنائیت ہے۔ انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جس نے ان کی شاعری کا حُسن بڑھایا اور ہر سطح پر اس کی مقبولیت کا سبب بنی۔ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت بھی لکھے۔

حفیظ جالندھری کا گیت "ابھی تو میں جوان ہوں” بھی بہت مشہور ہوا۔ بلا شبہ یہ ایک پُراثر گیت ہے جو ملکہ پکھراج کی آواز میں آج بھی سماعتوں میں رس گھول رہا ہے۔ حفیظ جالندھری نے غزلیں بھی کہی ہیں۔

پطرس بخاری کے مطابق حفیظ جالندھری کے قلم کی ایک بے پروا جنبش سے قدرت کی رنگینیاں تصویریں بن بن کر آنکھوں کے سامنے آتی ہیں۔ ایم ڈی تاثیر لکھتے ہیں کہ ساون رت، گھنگور گھٹائوں میں کھیلتی ہوئی بجلی، موروں کی جھنکار ، پپیہوں کی پکار، برسات کی ٹھنڈی ہوا، ہوا میں اڑتے ہوئے آنچل، آنکھوں میں تمنائے دید اور فراق کے آنسو، دل کو انتظار کی دھڑکن یہ ایک مست کیف شاعر کی وہ دنیا ہے جس میں حفیظ گاتا پھرتا ہے۔

قومی ترانے کے خالق کی حیثیت سے حفیظ جالندھری کا نام بھی زندہ ہے اور ان کا بہت احترام کیا جاتا ہے، لیکن تعجب کی بات ہے کہ جس ملک میں مبینہ کرپشن میں نام زد اعلیٰ سیاسی شخصیات کے ناموں پر تعلیمی ادارے تک قائم ہوگئے، اسی ملک کے قومی ترانے کے خالق کے نام پر نہ تو کوئی پارک ہے اور نہ ہی کوئی تعلیمی ادارہ جو صریحاً ناانصافی ہے۔

حفیظ جالندھری نے 82 سال کی عمر پائی اور 21 دسمبر 1982ء کو دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔

ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

مبارک ہو کہ ختم المرسلیں تشریف لے آئے
جناب رحمتہ للعٰلمین تشریف لے آئے
خبر جا کر سنا دو شش جہت کے زیر دستوں کو
زبردستی کی جرات اب نہ ہوگی خود پرستوں کو
ضعیفوں بیکسوں آفت نصیبوں کو مبارک ہو
یتیموں کو غلاموں کو غریبوں کو مبارک ہو

ہوش میں آ چکے تھے ہم، جوش میں آ چکے تھے ہم
بزم کا رنگ دیکھ کر سَر نہ مگر اٹھا سکے

وہ نہ آٸے نہ سہی موت تو آٸے گی حفیظ
صبر کر صبر ترا کام ہوا رکھا ہے

وہ کالی کالی بدلیاں
افق پہ ہو گئیں عیاں
وہ اک ہجومِ مے کشاں
ہے سوئے مے کدہ رواں
یہ کیا گماں ہے بد گماں
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں
خیالِ زہد ابھی کہاں
ابھی تو میں جوان ہوں

Comments

یہ بھی پڑھیں