site
stats
پاکستان

حافظ سعید کی نظر بندی مودی اور ٹرمپ کے رابطے کا نتیجہ ہے

اسلام آباد : حافظ سعید کی اچانک نظر بندی کا فیصلہ گزشتہ دنوں ٹرمپ اور مودی کے درمیان رابطہ کا نتیجہ ہے، یہ بات بین الاقوامی مصالحت کار فیصل محمد نے کہی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس رابطے کے بعد واشنگٹن سے اسلام آباد کو دو روز قبل پپیغام دیا گیا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود حافظ سعید کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا اگراسلام آباد فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو سفارت کاروں کو چھوڑ کر پاکستان کے تمام اعلیٰ سول اور سرکاری عہدیداران اور ان کے اہل خانہ کے ویزے منسوخ ہوسکتے ہیں۔

اسی سے متعلق: حافظ سعید کی نظر بندی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے،آئی ایس پی آر

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ سمیت کئی سرکاری نیم سرکاری اور بیوروکریٹس کے اہل خانہ حصول تعلیم اور دیگر تجارتی معاملات کی غرض سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روزمحکمہ داخلہ کے احکامات کے بعد امیرجماعت الدعوۃ حافظ سعید کو ان کی رہائش گاہ جوہر ٹاون میں6 ماہ کے لئے نظربند کر دیا گیا، ایس پی سول لائنز کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری نے حافظ سعید کو سخت سکیورٹی میں جامع مسجد قادسیہ سے ان کی رہائش گاہ جوہر ٹاؤن جس کو سب جیل قرار دیا گیا ہے منتقل کردیا۔

یہ پڑھیں: حافظ سعید نظر بند، گھر سب جیل قرار، جماعت الدعوۃ و ایف آئی ایف واچ لسٹ‌ میں‌ شامل

چوبرجی میں واقع مسجد قادسیہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت الدعوہ حافظ سعید کا کہنا تھا کہ کشمیر کے لئے نظربندی پر بے حد خوشی ہے، تمام کارکنوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ 5 فروری کشمیر ڈے کو قومی یکجہتی کےساتھ منائیں۔

انہوں نے کہا کہ ریلیاں اور سیمنارز پہلے سے زیادہ ہونے چاہیں، کشمیرکی آزادی کے لئے جدوجہد برقرار رکھی جائے۔ اس موقع پر جماعت کے کارکنوں کی جانب سے شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top