The news is by your side.

Advertisement

حافظ سعید کا مقدمہ گجرانوالہ سے لاہور منتقل کرنے کی درخواست منظور

لاہور: ہائی کورٹ نے حافظ سعید کاکیس گجرنوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت سے لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقلی کی درخواست منظور کرلی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم خان نے مقدمہ منتقلی کے لیے دائر کردہ درخواست پر سماعت کی ۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ لاہور جیل میں رکھا گیا ہے جبکہ ہر پیشی پر گجرانوالہ لےجایا جاتا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ گجرانوالہ انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی سکیورٹی حالات کے مطابق درست نہیں ، جب لاہور جیل میں رکھا گیا ہے تو کیس بھی لاہور میں چلایا جائے۔استدعا ہے کہ کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت گوجرانوالہ سے لاہور منتقلی کا حکم دیا جائے۔

دوران سماعت سرکاری وکیل نے کہا کہ کیس کی منتقلی پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ، جس پر عدالت نے حافظ سعید کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمے کو نمٹا دیا۔

یاد رہے کہ حافظ سعید رواں برس 17 جولائی کو لاہور سے گجرانوالہ جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا تھا، ان کی گرفتاری نیشنل ایکشن پلان کے تحت عمل میں لائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر 2008 میں جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں بعدازاں سال 2014 میں امریکا نے بھی جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر مالی پابندیاں عائد کیں اور حافظ سعید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر انعام دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔

چند روز قبل اقوام متحدہ نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو منجمد اکاؤنٹس سے رقم نکالنے کی اجازت دی تھی ، اجازت کے تحت وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات کے لئے ہر ماہ بینک سے ڈیڑھ لاکھ روپے نکال سکیں گے۔ یواین لیٹرکے مطابق حافظ سعید کو منجمداکاؤنٹس کے استعمال کرنے کی اجازت سلامتی کونسل کی خصوصی کمیٹی نےانسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں