The news is by your side.

Advertisement

ہیٹی : ‘ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی صدر مرچکے تھے’ ملزمان کا دعویٰ

پورٹ او پرنس : ہیٹی کے صدر جووینل موئس کے قتل میں ملوث ملزمان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ صدر ہیٹی کو صرف گرفتار کرنے آئے تھے لیکن جب صدر کے پاس پہنچے وہ مرے ہوئے تھے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کیریبین ملک ہیٹی کے صدر کو بے دردی سے قتل کرنے والے گروہ سے دعویٰ کیا ہے کہ وہ صرف صدر کو گرفتار کرنا چاہتے تھے لیکن جب ہم صدر ہاؤس پہنچے تو وہ مرے ہوئے تھے۔

ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان کا کہنا تھا کہ ان کا مشن صدر کو گرفتار کر کے صدارتی محل لے جانا تھا۔ ‏تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ دو ہیٹی امریکیوں ، جیمز سولجز اور جوزف ونسنٹ نے تفتیش کاروں ‏کو بتایا کہ وہ کولمبیا کے کمانڈو یونٹ کے مترجم ہیں جن کے پاس گرفتاری کا وارنٹ تھے لیکن ‏جب وہ پہنچے تو انہوں نے صدر کو مردہ پایا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر کو بدترین تشدد کے بعد قتل کیا گیا ہے، جس کے باعث ان کے سر میں بھی فریکچر تھا اور دیگر ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں جب کہ پورا جسم گولیوں سے چھلنی تھا۔

صدر موئس کے قتل کے بعد سے دارالحکومت میں مظاہرے چل رہے ہیں، جب کہ قائم مقام سربراہ مملکت اور وزیراعظم کلاوڈ جوزف کے خلاف بڑے عوامی مظاہرے کی تیاری کررہے ہیں۔

ہیٹی: صدر جووینل موئس قتل کیس میں اہم پیشرفت

خیال رہے کہ 55 سالہ صدر موئس کو ان کی نجی رہائش گاہ پر گولی مار دی گئی تھی، واقعے میں ‏ان کی اہلیہ کو بھی گولی لگی تھی، امریکا میں ہیٹی کے سفیر بوکیٹ ایڈمنڈ نے قاتلوں کو ’غیر ‏ملکی، زر پرست اور پیشہ ور قاتل‘ قرار دیا تھا، رپورٹس کے مطابق قاتلوں نے امریکی ڈرگ ‏انفورسمنٹ ایجنسی کے ایجنٹ کا روپ دھار رکھا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں