site
stats
پاکستان

نجی حج ٹورزآپریٹر عازمین حج سے 10 کروڑ روپے لے کرغائب

اسلام آباد : نجی حج ٹورز آپریٹر 300 سے زائد عازمین سے 10 کروڑ روپے لے کر غائب ہوگیا، وزارتِ مذہبی امور نے متاثرہ افراد کو رقم واپس کروانے اور آپریٹر کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق حرمین شریفین کی زیارت نہ صرف ہر صاحب استطاعت مسلمان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے، بل کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد صاحب استطاعت نہ ہونے کے باوجود حج پر جانے کے لیے اپنے آمدنی میں سے پیسے جمع کرکے سامان سفر حجاز مقدس کا انتظام کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں نجی حج ٹورز آپریٹر300 سے زائد افراد سے 10 کروڑ روپے لے کر غائب ہوگیا، حج پر جانے کی خواہش میں فراڈیے شخص کے ہاتھوں لُٹنے والے افراد نے وزارت مذہبی امور کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا۔

متاثرین کا کہنا ہے ٹریول ایجنسی نے تین مہینے سے رلا کر رکھا ہوا ہے اور 13  تاریخ کے ٹکٹ دیے تاہم جب ایئر پورٹ پہنچے تو پتا لگا ہمارا ویزا ہی نہیں لگا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ نہ پیسے واپس مل رہے ہیں نہ پاسپورٹ، لوٹنے والے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے خلاف کارروائی کی جائے، جمع پونجی حج کی سعادت کے لیے جمع کرائی وہ بھی لوٹ لیے گئے۔

متاثرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان کے پیسے واپس دلوائے اور انہیں حج پر بھیجے مظاہرین نے کہا اب ان کے پاس احتجاج کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

وزارتِ مذہبی امور کا نوٹس

حج ٹور آپریٹر کے فراڈ کی خبر اے آر وائی نیوز پر نشر ہونے کے بعد وزارتِ مذہبی امور نے نوٹس لیتے ہوئے مظاہرین کو ملاقات کے لیے اپنے پاس بلا لیا، مظاہرین کے تین رکنی وفد نے سیکریٹری وزارتِ مذہبی امور اور ایڈیشنل سیکریٹری سے ملاقات کر کے تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔

ترجمان وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ ہاشمی ٹریولز کو 102 افراد کا کوٹا دیا گیا تھا جبکہ انہوں نے 108 مزید لوگوں کو حج پر بھیجنے کا جھانسہ دیا اور ایڈوانس رقم حاصل کی۔

وزارتِ مذہبی امور نے یقین دہانی کروائی ہے کہ غبن کا کیس ایف آئی اے کو بھیج کر متعلقہ ٹور آپریٹر کی کمپنی کو بلیک لسٹ کیا جائے گا جبکہ متاثرہ لوگوں کی رقم بھی انہیں جلد واپس دلوائی جائے گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top