The news is by your side.

تبلیغی جماعت کےامیر حاجی عبدالوہاب کی نمازجنازہ ادا، بڑی تعداد میں‌ عوام کی شرکت

لاہور: تبلیغی جماعت کے امیر عبد الوہاب کا نمازجنازہ ادا کردیا گیا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبد الوہاب 18 نومبر بروز اتوار کی صبح طویل علالت کے بعد 95 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

مرحوم کا نماز جنازہ تبلیغی جماعت کے مرکز رائیونڈ میں بعد نمازِ مغرب ادا کیا گیا، جنازہ گاہ کو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں سے ایک کو وی آئی پی اور جماعت کے مرکزی عہدیداران جبکہ دوسرے حصے کو مختلف شہروں سے آنے والے افراد کے لیے مختص کیا گیا۔

جنازے میں شرکت کے لیے عوام کا ہجوم امڈ آیا تھا جس کے باعث لاہور کی مختلف شاہراوں پر شدید ٹریفک جام بھی ہوا۔

مزید پڑھیں: مولانا حاجی عبدالوہاب کےانتقال پروزیراعظم سمیت سیاسی رہنماؤں کا اظہار افسوس

یاد رہے کہ حاجی عبد الوہاب نجی اسپتال میں زیر علاج تھے وہ طویل عرصے سے علالت کی زندگی بسر کررہے تھے۔ وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان نے اُن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور اہل خانہ سے تعزیت کی۔

وزیر اعظم کا اظہارِ تعزیت

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تعزیتی بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حاجی عبدالوہاب کی شخصیت اور دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

وزیر اعظم نے دعا کی کہ ’اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے اور درجات بلند کرے‘۔ عمران خان نے اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا بھی کی۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی تعزیت

چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ ’امت مسلمہ آج جید عالم سے محروم ہوگئی، حاجی عبدالوہاب نے دعوت و تبلیغ کے لیے اپنی زندگی وقف کردی تھی‘۔

ہم سب بہت افسردہ ہیں، میرے پاس الفاظ نہیں، مولانا طارق جمیل

مولانا طارق جمیل نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ ’تبلیغی جماعت اور ہم سب مولانا عبدالوہاب کے ہاتھ کا لگایا ہوا باغیچہ ہیں، آج اُن کے انتقال پر سب بہت افسردہ ہیں، میرے پاس بھی کوئی الفاظ نہیں ہیں‘۔

حاجی عبد الوہاب کا سفر زندگی

مولانا حاجی عبدالوہاب یکم جنوری 1923 کونئی دہلی میں پیدا ہوئے، مولاناعبدالوہاب نے اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن کیا۔

تقسیم ہند سے پہلے مولانا عبدالوہاب نے بطور تحصیل دار فرائض انجام دیے، مولانا عبدالوہاب تحصیل دارکاعہدہ چھوڑکرتبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہوئے۔

قیام پاکستان کے بعد مولانا عبدالوہاب نے اہل خانہ کے ہمراہ بھارت سے ہجرت کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں