The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: ’میرے اندر یہ احساس پیدا ہوا تھا کہ اس سال حج کا خواب پورا ہو جائے گا‘

ریاض: کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے گزشتہ برس دنیا بھر کے مسلمان فریضۂ حج کی ادائیگی سے محروم رہ گئے تھے، تاہم اس سال محدود تعداد میں دنیا کے متعدد ممالک سے زائرین نے حج کی سعادت حاصل کی۔

کرونا وبا کے دوران حج کی سعادت حاصل کرنے پر حجاج خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ برسوں سے وہ حج کا خواب دیکھ رہے تھے جو آج پورا ہوگیا، وبا کی وجہ سے سعودی عرب نے رواں برس صرف محدود تعداد میں لوگوں کو حج کی اجازت دی۔

سعودی وزارت کے مطابق پانچ لاکھ سے زیادہ حج درخواستوں میں سے صرف 60 ہزار کو حج کے لیے منتخب کیا گیا تھا، جب کہ 2019 میں 25 لاکھ افراد نے حج ادا کیا تھا۔

کرونا وبا کی وجہ سے محدود افراد کی اجازت کے باوجود خوش نصیب حجاج کو پہلے سے احساس ہو گیا تھا کہ اس سال وہ حج کی سعادت حاصل کر لیں گے۔

سعودی میڈیا کے مطابق میدان عرفات میں مراکش کے حاجی رشید الادریسی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’حج درخواست کی منظوری کی اطلاع میرے لیے بہت بڑی خوش خبری تھی، جب درخواست کا فارم سامنے آیا تو میں اسے روانی کے ساتھ بھرتا چلا گیا تھا، اس سے میرے اندر یہ احساس پیدا ہوا تھا کہ اس سال حج کا خواب پورا ہو جائے گا۔

جیزان میں مقیم مصر کے ڈاکٹر علی صبحی نے کہا کہ حج انتظامات بہت عمدہ ہیں، امیدواروں کے انتخاب میں شفافیت کا مظاہرہ کیا گیا۔ سوڈانی حاجی موسیٰ حسین نے کہا کہ انھوں نے پہلا حج بیس برس پہلے کیا تھا، اس دوران حج مقامات کی دنیا ہی بدل گئی ہے۔

ایک عرب حاجی عادل بوعبید نے حج کا موقع ملنے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ 35 برس سے حج کا خواب دیکھ رہا تھا، جب بھی حج کا موسم آتا کوئی نہ کوئی مصروفیت یا کوئی مسئلہ آڑے آ جاتا۔

انھوں نے کہا اس سال حج سے متعلق میرا خواب پورا ہوگیا، کرونا کی وجہ سے حجاج کی تعداد محدود ہے مگر قسمت نے میرا ساتھ دیا اور حج درخواست منظور ہوگئی۔ میدان عرفات میں مصری حجن نے ایس پی اے کو بتایا کہ وہ 30 برس سے فریضۂ حج کا خواب دیکھ رہی تھیں جو اس سال شرمندہ تعبیر ہوگیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں