حج مناسک کا آغاز: عازمین حج منیٰ پہنچ گئے Hajj pilgrims reach Mina
The news is by your side.

Advertisement

حج مناسک کا آغاز: عازمین حج منیٰ پہنچ گئے

ریاض : سعودی عرب جانے والے لاکھوں عازمین حج مکۃ المکرمہ سے منیٰ پہنچ گئے، جہاں آج (8 ذوالحج) کا دن اور رات گزاریں گے، منیٰ میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی قائم ہے۔

تفصیلات کے مطابق حج مناسک کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں سعودی عرب جانے والے فرزندان اسلام منیٰ پہنچ گئے جہاں عازمین حج آج (8 ذوالحج) کا دن اور رات منیٰ میں ہی گزاریں گیں جہاں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی قائم کی گئی ہے۔

حجاج کرام 9 ذوالحج کی صبح منیٰ سے میدان عرفات کی جانب سے روانہ ہوں گےجہاں حج کا اہم فریضہ وقوف عرفہ کی ادائیگی کریں گے اور مسجد نمرہ میں خطبہ حج بھی سنیں گے جو مسجد نبوی کے امام شیخ حسن بن عبدالعزیز آل شیخ دیں گے جس کے بعد نماز ظہر و عصر ایک ساتھ ادا کی جائے گی۔

عازمین حج سورج غروب ہونے کے بعد میدان عرفات سے مزدلفہ کی جانب روانہ ہوں گے جہاں وہ نماز مغربین (مغرب و عشا) ایک ساتھ قصر ادا کریں اور رات کو مزدلفہ میں قیام کے دوران رمی جمرات کے لیے کنکریاں جمع کریں گے اور نماز فجر بھی مزدلفہ میں ہی ادا کریں گے۔

حجاج کرام 10 ذوالحج کو طلوع آفتاب کے بعد دوبارہ منیٰ کی جانب روانہ ہوں گے جہاں وہ سب سے بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں گے اور رمی جمرات کے بعد حجاج کرام قربانی کریں۔

حج مناسک کی ادائیگی کے لیے سعودی جانے والے عازمین کرام قربانی کے بعد مکۃالمکرمہ جاکر مسجد الحرام میں طواف زیارت کریں گے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی سعادت حاصل کریں گے جس کے بعد واپس منیٰ آجائیں گے۔

واضح رہے کہ رواں برس فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے 20 لاکھ مسلمان سعودی عرب پہنچے ہیں، عازمین کرام میں 1 لاکھ 84 ہزار افراد پاکستانی ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی حکام نے حجاج کرام کی سہولت اور کے لیے ایک ہیلپ لائن 8004304444 متعارف کروائی گئی ہے جس پر کال کرکے شکایت یا معلومات درج کروائی جاسکتی ہے۔

سعودیہ جانے والے سافٹ ویئرز ماہرین میں دو پاکستانی شہری بھی شامل ہیں جنہوں نے دو ایشیائی طالب علموں کے ساتھ مل کر ایک ایسی ایپلی کیشن بنائی ہے جو دوران حج انسانوں کے سمندر میں لاپتہ ہونے والے عازمین حج کا پتہ لگائے گی۔

پاکستانی ماہرین سافٹ ویئرز کے مطابق مذکورہ ایپلیکیشن بلوتوتھ رسٹ بینڈ کے ذریعے کام کرے گی جو عازمین حج اپنے ہاتھوں میں گھڑیوں کی طرح پہنیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی خواتین کے ایک گروپ نے ایسا آلہ تیار کیا ہے جس کی مدد نے عجم عازمین حج عربی زبان کو باآسانی سمجھ سکیں گے۔

سعودی، یمنی اور ایریٹیریا کی 5 خواتین پر مشتمل ایک گروپ نے باہمی طور پر میڈیکل کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایپلی کیشن تیار کی ہے جو جیو ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے متاثرہ شخص کو فوری تلاش کرے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں