لاہور ہائی کورٹ میں حج پالیسی 2019 کو چیلنج کردیا گیا
The news is by your side.

Advertisement

لاہور ہائی کورٹ میں حج پالیسی 2019 کو چیلنج کردیا گیا

لاہور : لاہور ہائی کورٹ میں حج پالیسی 2019 کو چیلنج کردیا گیا، درخواست میں کہا گیا حج فیس میں اضافہ غیر قانونی طور پر منافع کمانے کے لیے کیا گیا،  عدالت حج پالیسی 2019 کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو حج پر سبسڈی دینے اور اس حوالے سے نئی پالیسی پیش کرنے کا حکم دے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں حج پالیسی 2019 کیخلاف درخواست دائر کردی گئی، درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ نئی پالیسی کے تحت سرکاری حج کی فیس 2 لاکھ اسی ہزار سے بڑھا کر 4 لاکھ چھپن ہزار کردی گئی ہے، حکومت کی جانب سے غریب عازمین حج کو دی جانے والی سبسڈی ختم کردی گئی ہے جس سے حج 65 فیصد تک مہنگا ہوگیا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حج فیس میں اضافہ غیر قانونی طور پر منافع کمانے کے لیے کیا گیا، پرائیوٹ حج آپریٹر پونے چار لاکھ میں حکومت سے کم قیمت میں حج کرا رہے ہیں۔

دائر درخواست میں استدعا کی گئی عدالت حج پالیسی 2019 کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو حج پر سبسڈی دینے اور اس حوالے سے نئی پالیسی پیش کرنے کا حکم دے۔

مزید پڑھیں : وزارت مذہبی امورنے حج پالیسی 2019 جاری کردی

خیال رہے وفاقی کابینہ اجلاس میں قومی حج پالیسی 2019 کی منظوری دی گئی تھی اور اس برس سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، رواں سال ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانی حج ادا کرسکیں گے۔

سرکاری اسکیم کے تحت ایک لاکھ 7 ہزار 526 اور نجی اسکیم کے تحت 71 ہزار 684 عازمین حج کے لیے جائیں گے، حج پالیسی کے مطابق شمالی ریجن کے لیے حج اخراجات بغیر قربانی 4 لاکھ 36 ہزار 975 روپے ہوں گے جبکہ قربانی کے اخراجات 19 ہزار 451 روپے الگ ہوں گے تاہم جنوبی ریجن کے لیے حج اخراجات بغیر قربانی 4 لاکھ 26 ہزار 975 روپے ہوں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں