site
stats
لائف اسٹائل

حلال میک اپ: اب خواتین کا حسن حرام جانوروں کا محتاج نہیں رہا

پیرس: شیخ اچکار نامی ایک امام نے حلال اور حرام کاسمیٹیکس کے مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالا، اب دنیا بھر کی مسلم خواتین بغیر کسی بھی شک و شبہے کے میک اپ کی اشیاء استعمال کرسکتی ہیں۔

اسلام میں خنزیر اورالکحل کا کسی بھی صورت استعمال حرام ہے چاہے وہ میک اپ کی شکل میں ہی کیوں نا ہو اوراس پابندی کے سبب میک اپ بنانے والی کمپنیز کو مسلم مارکیٹس میں رسائی حاصل کرنے سبب دشواریاں درپیش ہیں۔

شیچ علی اچکار سوئٹزلینڈ سے کام کرنے والی ’حلال سرٹیفیکیشن سروسز‘ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی ٹیم جدید سائنسی بنیادوں پر کسی بھی میک اپ پراڈکٹس کا معائنہ کرتے ہیں اور اس معائنے کی فیس 1500 سے 2500 یورو ہے۔

شیخ اچکارکا کہنا ہے کہ ہماری فیس مارکیٹ میں اپنے حریفوں کی نسبت انتہائی کم ہے اور سرٹیفکٹ کو ہرسال رینیو کرایا جانا ضروری ہے۔ شیخ اچکار فیکٹریوں کا بھی معائنہ کرتے ہیں کہ آیا وہ حلال کام کررہی ہیں کہ نہیں۔

خیال رہے کہ یورپین یونین نے 2013 میں جانوروں سے بننے والی میک اپ کی اشیاء پرپابندی عائد کردی تھی جس کے بعد بہت سے کمپنیاں جانوروں کے عضلات سے پاک پراڈکٹس بنانے لگیں ہیں تاہم اس کے لئے کوئی مروجہ لیبل تاحال تشکیل نہیں پا سکا ہے جس کی وجہ سے صارف تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔

چند سال قبل تک حلال کاسمیٹیکس کی انڈسٹری انتہائی مختصر تھی بعد ازاں اس مارکیٹ میں چڑھاؤ دیکھنے میں آیا اور2014 میں یہ انڈسٹری 18 ملین یورو مالیت تک پہنچ چکی تھی اور خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ 2019 تک یہ مالیت دوگنا ہوجائے گی۔

گوانتاموبے میں قید9یمنی ق

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top