The news is by your side.

Advertisement

سندھ کے اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین موجود نہیں ہے، حلیم عادل شیخ

کراچی : پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر اور رکن صوبائی اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سندھ کے اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین موجود نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ سکرنڈ میں ویکسین سینٹر قائم کرنے کیلئے4کروڑ خرچ کئے گئے،500ویکسین تیارپڑی ہیں اٹھائی نہیں گئی۔

اکیس اگست کو اسمبلی میں کہا تھا کہ لاڑکانہ میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہیں ہے، بات سنی نہیں گئی اور ایک بچہ انتقال کرگیا۔

حیلم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں سیکشن420رائج ہے، کتے کی ویکسین غریب میرحسن کو نہیں ملی،وزیراعلیٰ سندھ جھوٹ بولتے ہیں، میں نے خود متوفی بچے میرحسن کے والد سے بات کی ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ وہ بچے کو ہسپتال لے کر گئے تھے لیکن ویکسن نہیں ملی، جب عوام کی بات ہوتی ہے تو مکیش کمارچاولہ اس کی مخالفت کرتے ہیں، کسی چور ظالم کی بات کی جاتی ہے تو بول پڑتے ہیں۔

نمرتا کماری کی ہلاکت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر نمرتا کے گھر بھی جاؤں گا، وائس چانسلر کون ہے اور کس نے لگایا ہے؟ بی بی آصفہ کے نام پر کالج بنا ہوا ہے، اس نام کی کچھ تو لاج رکھ لیتے۔

سندھ میں ستر فیصد ایمبولینس ڈاکٹرز کے گھروں میں چل رہی ہیں جنہیں سرکاری خزانے سے پیٹرول مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ قصور کے واقعے بعد وزیراعلی پنجاب اورآئی جی کو کہوں گا کہ ن لیگ نے جو غنڈے پولیس میں بھرتی کئے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کریں، واقعہ کہیں پر بھی ہو تو افسوس ہوتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں